❮
❯
حدیث نمبر: 3501
أَوْ لَمْ يَعْمَلْ بِهِ أَوْ رَائَى بِهِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْجِدَالِ فِيهِ .
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، ثَنَا مَيْسَرَةُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، عَنْ أَبِي عَائِشَةَ السَّعْدِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ قَالَا : خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَفِيهِ : " وَمَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ ثُمَّ نَسِيَهُ مُتَعَمِّدًا لَقِيَ اللهَ مَجْذُومًا مَغْلُولًا ، وَسَلَّطَ اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ بِكُلِّ آيَةٍ حَيَّةً تَنْهَشُهُ فِي النَّارِ ، وَمَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ فَلَمْ يَعْمَلْ بِهِ وَآثَرَ عَلَيْهِ حُطَامَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا ، اسْتَوْجَبَ سَخَطَ اللهِ تَعَالَى ، وَكَانَ فِي دَرَجَةِ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى الَّذِينَ نَبَذُوا كِتَابَ اللهِ ( عَزَّ وَجَلَّ ) وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ وَاشْتَرَوْا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا ، وَمَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ رِيَاءً وَسُمْعَةً أَوْ يُرِيدُ بِهِ الدُّنْيَا لَقِيَ اللهَ ( تَعَالَى ) وَوَجْهُهُ عَظْمٌ لَيْسَ عَلَيْهِ لَحْمٌ ، وَدَعَّ الْقُرْآنُ فِي قَفَاهُ حَتَّى يَقْذِفَهُ فِي النَّارِ فَيَهْوِي فِيهَا مَعَ مَنْ هَوَى ، وَمَنْ قَرَأَهُ وَلَمْ يَعْمَلْ بِهِ حَشَرَهُ اللهُ تَعَالَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى ، فَيَقُولُ لَهُ : رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِي أَعْمَى وَقَدْ كُنْتُ بَصِيرًا ؟ فَيَقُولُ رَبُّكَ : كَذَلِكَ أَتَتْكَ آيَاتُنَا فَنَسِيتَهَا ، وَكَذَلِكَ الْيَوْمَ تُنْسَى ، ثُمَّ يُؤْمَرُ بِهِ إِلَى النَّارِ . وَمَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللهِ تَعَالَى وَتَفَقُّهًا فِي دِينِ اللهِ ( عَزَّ وَجَلَّ ) كَانَ لَهُ مِنَ الثَّوَابِ مِثْلُ جَمِيعِ مَا أَعْطَى اللهُ تَعَالَى الْمَلَائِكَةَ وَالْأَنْبِيَاءَ وَالرُّسُلَ ، وَمَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ رِيَاءً وَسُمْعَةً لِيُمَارِيَ بِهِ السُّفَهَاءَ ، وَيُبَاهِيَ بِهِ الْعُلَمَاءَ ، وَيَطْلُبَ بِهِ الدُّنْيَا ، بَدَّدَ اللهُ تَعَالَى عِظَامَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَكَانَ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ عَذَابًا ، وَلاَ يَبْقَى مِنْهَا ( شَيْءٌ ) مِنْ أَنْوَاعِ الْعَذَابِ إِلاَّ عُذِّبَ بِهِ ؛ لِشِدَّةِ عَذَابِ اللهِ تَعَالَى وَسَخَطِهِ عَلَيْهِ " .
ترجمہ

سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا، پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی جس میں یہ (ارشاد) بھی تھا: ”جس نے قرآن سیکھا اور پھر اسے دانستہ طور پر بھلا دیا، وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ کوڑھی ہوگا اور طوق و سلاسل میں جکڑا ہوا ہوگا، اور اللہ تعالیٰ قرآن کی ہر اس آیت کے بدلے (جسے اس نے فراموش کیا) اس پر ایک ایسا سانپ مسلط کر دے گا جو اسے دوزخ کی آگ میں ڈستا رہے گا۔ اور جس شخص نے قرآن کا علم تو حاصل کیا مگر اس پر عمل پیرا نہ ہوا اور اس کے مقابلے میں دنیا کے حقیر مال و متاع اور اس کی ظاہری آرائش و زیبائش کو ترجیح دی، تو وہ اللہ تعالیٰ کی سخت ناراضی اور غضب کا مستحق قرار پایا، اور اس کا درجہ ان یہود و نصاریٰ جیسا ہوگا جنہوں نے اللہ کی کتاب کو پسِ پشت ڈال دیا اور اسے حقیر قیمت کے عوض بیچ ڈالا۔ اور جس نے قرآن کو محض ریا کاری، شہرت اور دنیاوی جاہ و منصب کی طلب میں پڑھا، وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اس کا چہرہ محض ہڈی ہوگا جس پر گوشت کا نام و نشان تک نہ ہوگا، اور قرآن اسے گدی سے دھکے دے کر آگ میں دھکیل دے گا، پس وہ جہنم کے گڑھے میں گرنے والوں کے ساتھ جا گرے گا۔ اور جس نے قرآن پڑھا مگر اس پر عمل نہ کیا، اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن اندھی حالت میں اٹھائے گا، تو وہ عرض کرے گا: ﴿رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِي أَعْمَى وَقَدْ كُنْتُ بَصِيرًا﴾ [سورة طه: 125] ”اے میرے رب! تو نے مجھے اندھا کر کے کیوں اٹھایا حالانکہ میں تو (دنیا میں) دیکھنے والا تھا؟“ تو اللہ رب العزت فرمائے گا: ﴿كَذَلِكَ أَتَتْكَ آيَاتُنَا فَنَسِيتَهَا وَكَذَلِكَ الْيَوْمَ تُنْسَى﴾ [سورة طه: 126] ”اسی طرح تیرے پاس ہماری نشانیاں آئی تھیں تو تو نے انہیں بھلا دیا تھا، اور اسی طرح آج تجھے بھی بھلا دیا جائے گا“، پھر حکم دیا جائے گا اور اسے آگ کی طرف لے جایا جائے گا۔ اور جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور دینِ الہی کی سمجھ بوجھ حاصل کرنے کے لیے قرآن سیکھا، اس کے لیے اتنا اجر و ثواب ہے جتنا اللہ تعالیٰ نے تمام ملائکہ، انبیاء اور رسولوں کو عطا فرمایا ہے۔ لیکن جس نے قرآن کو ریا کاری، نام و نمود، جاہلوں سے تکرار کرنے، علماء پر اپنی بڑائی جتانے اور دنیا طلب کرنے کے لیے سیکھا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی ہڈیوں کو بکھیر دے گا، وہ لوگوں میں سب سے شدید عذاب کا شکار ہوگا، اور اللہ کے سخت عذاب اور غیظ و غضب کی وجہ سے عذاب کی ایسی کوئی صنف نہ ہوگی جس کا اسے ذائقہ نہ چکھایا جائے“۔
حارث نے کہا: ہمیں داود بن محبر نے حدیث بیان کی، انہوں نے میسرہ بن عبد ربہ سے، انہوں نے ابو عائشہ سعدی سے، انہوں نے یزید بن عمرو سے، انہوں نے ابو سلمہ بن عبدالرحمن سے، اور انہوں نے سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے یہ روایت نقل کی ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 3501
درجۂ حدیث محدثین: إسناده موضوع
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :الحديث بهذا الإِسناد موضوع »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»