المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب فضائل القرآن— قرآن مجید کے فضائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ القراء باب: قراءِ کرام کی فضیلت و منقبت کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَجِيءُ الْقُرْآنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي أَحْسَنِ ( شَارَةٍ ) وَأَحْسَنِ هَيْئَةٍ ، قَالَ : فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، قَدْ أَعْطَيْتَ كُلَّ عَامِلٍ أَجْرَ عَمَلِهِ ، فَأَيْنَ أَجْرُ عَمَلِي ؟ قَالَ : فَيُكْسَى صَاحِبُ الْقُرْآنِ حُلَّةً وَيُتَوَّجُ تَاجَ الْمُلْكِ ، قَالَ فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، قَدْ كُنْتُ أَرْغَبُ لَهُ بِمَا هُوَ أَعْظَمُ مِنْ هَذَا ، قَالَ : فَيُعْطَى الْخُلْدَ بِيَمِينِهِ وَالنَّعِيمَ بِشِمَالِهِ ، قَالَ : فَيُقَالُ لَهُ : أَرَضِيتَ ؟ فَيَقُولُ : نَعَمْ أَيْ رَبِّ
مُرْسَلٌ صَحِيحٌ .سیدنا سعید بن ابی سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”قیامت کے دن قرآنِ کریم انتہائی خوبصورت حالت اور بہترین ہیئت میں حاضر ہوگا اور عرض کرے گا: «يَا رَبِّ» ”اے میرے رب!“ تو نے ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کا بدلہ عطا فرما دیا ہے، تو پھر میرے عمل کی جزا کہاں ہے؟ چنانچہ صاحبِ قرآن کو (عزت و تکریم کا) جوڑا پہنایا جائے گا اور اسے بادشاہت کا تاج پہنایا جائے گا۔ پھر قرآن عرض کرے گا: «يَا رَبِّ» ”اے میرے رب!“ میں اس کے لیے اس سے بھی بڑھ کر کسی عظیم تر انعام کی خواہش اور رغبت رکھتا تھا۔ پس اسے دائیں ہاتھ میں ہمیشگی (دوام) اور بائیں ہاتھ میں نعمتیں عطا کر دی جائیں گی، پھر اس سے پوچھا جائے گا: کیا تو راضی ہو گیا؟ تو وہ عرض کرے گا: «أَيْ رَبِّ» ”جی ہاں اے میرے رب! (میں راضی ہوں)۔“
یہ حدیث مرسل صحیح ہے۔