المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ بِنَاءِ الْمَسَاجِدِ وَتَوْسِيعِهَا باب: مساجد کی تعمیر اور ان کی توسیع کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، ثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَيُّ الْبِقَاعِ [شَرٌّ] ؟
قَالَ : " لَا أَدْرِي - أَوْ سَكَتَ - " فَقَالَ لَهُ : أَيُّ الْبِقَاعِ خَيْرٌ ؟ قَالَ : لَا أَدْرِي - أَوْ سَكَتَ - " .
فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ ، فَسَأَلَهُ فَقَالَ : لَا أَدْرِي .
فَقَالَ : " سَلْ رَبَّكَ " ، فَقَالَ : مَا نَسْأَلُهُ عَنْ شَيْءٍ ، وَانْتَفَضَ انْتِفَاضَةً كَادَ يَصْعَدُ مِنْهَا رُوحُ النَّبِيِّ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا صَعِدَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ : سَأَلَكَ مُحَمَّدٌ : أَيُّ الْبِقَاعِ خَيْرٌ ؟ فَقُلْتَ : لَا أَدْرِي ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَحَدِّثْهُ أَنَّ خَيْرَ الْبِقَاعِ الْمَسَاجِدُ ، وَأَنَّ شَرَّ الْبِقَاعِ الْأَسْوَاقُ " .
صَحَّحَهُ ابْنُ حِبَّانَ .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور دریافت کیا: ”اے اللہ کے رسول! زمین کے کون سے خطے بدترین ہیں؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میں نہیں جانتا“، یا آپ خاموش رہے، پھر اس نے عرض کی: ”زمین کے کون سے حصے بہترین ہیں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نہیں جانتا“، یا آپ خاموش رہے۔ پھر سیدنا جبریل علیہ السلام آپ ﷺ کے پاس تشریف لائے تو آپ ﷺ نے ان سے دریافت کیا، انہوں نے بھی یہی عرض کیا کہ میں نہیں جانتا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اپنے رب سے دریافت کیجیے“، انہوں نے عرض کی: ”ہم اپنی جانب سے اس (اللہ جل شانہ) سے کوئی سوال نہیں کرتے“، اور جبریل علیہ السلام پر (اللہ کی خشیت اور ہیبت سے) ایسا شدید ارتعاش اور لرزہ طاری ہوا کہ اس کی شدت سے قریب تھا کہ نبی کریم ﷺ کی روحِ مبارک پرواز کر جائے، پھر جب جبریل علیہ السلام (آسمان کی طرف) بلند ہوئے تو اللہ عزوجل نے فرمایا: ”محمد (ﷺ) نے تم سے دریافت کیا کہ بہترین جگہیں کون سے مقامات ہیں اور تم نے کہا کہ میں نہیں جانتا؟“ انہوں نے عرض کی: ”جی ہاں (اے باری تعالیٰ!)“، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”پس انہیں خبر دے دیجیے کہ بہترین مقامات مساجد ہیں اور بدترین مقامات بازار ہیں“۔
امام ابن حبان نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔