المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب فضائل القرآن— قرآن مجید کے فضائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ القراء باب: قراءِ کرام کی فضیلت و منقبت کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " يَتَمَثَّلُ الْقُرْآنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُؤْتَى بِالرَّجُلِ قَدْ كَانَ حَمَلَهُ فَيَتَمَثَّلُ خَصْمًا دُونَهُ قَالَ : فَيَقُولُ : يَا رَبِّ حَمَّلْتَهُ إِيَّايَ فَشَرَّ حَامِلٍ ؛ تَعَدَّى حُدُودِي ، وَضَيَّعَ فَرَائِضِي ، وَرَكِبَ مَعْصِيَتِي ، وَتَرَكَ طَاعَتِي ، فَمَا يَزَالُ يَقْذِفُ عَلَيْهِ بِالْحُجَجِ حَتَّى يُقَالَ : فَشَأْنُكَ بِهِ فَيَأْخُذُ بِيَدِهِ مَا يُرْسِلُهُ حَتَّى يَكُبَّهُ عَلَى صَخْرَةٍ فِي النَّارِ . وَيُؤْتَى بِالْعَبْدِ الصَّالِحِ قَدْ كَانَ حَمَلَهُ ، فَحَفِظَ أَمْرَهُ ، فَيَتَمَثَّلُ خَصْمًا دُونَهُ فَيَقُولُ : يَا رَبِّ حَمَّلْتَهُ إِيَّايَ فَكَانَ خَيْرَ حَامِلٍ ، حَفِظَ حُدُودِي ، وَعَمِلَ بِفَرَائِضِي ، وَاجْتَنَبَ مَعْصِيَتِي ، وَعَمِلَ بِطَاعَتِي ، وَمَا يَزَالُ يَقْذِفُ لَهُ بِالْحُجَجِ ، حَتَّى يُقَالَ : شَأْنُكَ بِهِ ، فَيَأْخُذُ بِيَدِهِ ، فَمَا يُرْسِلُهُ حَتَّى يَكْسُوَهُ حُلَّةَ الْإِسْتَبْرَقِ ، وَيَعْقِدَ عَلَيْهِ تَاجَ الْمُلْكِ ، وَيَسْقِيَهُ كَأْسَ الْخَمْرِ
هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ .سیدنا عمرو بن شعیب اپنے والد اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”قیامت کے دن قرآنِ کریم ایک (مجسم) صورت اختیار کر لے گا، پھر اس شخص کو لایا جائے گا جس نے اسے اٹھایا (حفظ و تلاوت کیا) ہو گا، تو قرآن اس کے مقابلے میں ایک مدعی بن کر سامنے آئے گا اور عرض کرے گا: «يَا رَبِّ حَمَّلْتَهُ إِيَّايَ فَشَرَّ حَامِلٍ؛ تَعَدَّى حُدُودِي، وَضَيَّعَ فَرَائِضِي، وَرَكِبَ مَعْصِيَتِي، وَتَرَكَ طَاعَتِي» ”اے میرے رب! تو نے اسے میرا حامل بنایا تھا لیکن یہ کتنا برا حامل ثابت ہوا؛ اس نے میری حدود کو پامال کیا، میرے فرائض کو ضائع کیا، میری نافرمانیوں کا ارتکاب کیا اور میری اطاعت کو ترک کر دیا۔“ پس قرآن اس کے خلاف مسلسل حجتیں اور دلائل پیش کرتا رہے گا یہاں تک کہ (اللہ کی طرف سے) کہا جائے گا: ”اب تم جانو اور یہ جانے (یعنی یہ تمہارے حوالے ہے)“، پھر قرآن اس کا ہاتھ پکڑ لے گا اور اسے نہیں چھوڑے گا یہاں تک کہ اسے جہنم کی ایک چٹان پر اوندھے منہ گرا دے گا۔ پھر اس نیک بندے کو لایا جائے گا جس نے قرآن کو اٹھایا (یعنی اسے یاد کیا اور اس پر عمل کیا) ہو گا اور اس کے احکامات کی حفاظت کی ہو گی، تو قرآن اس کے حق میں ایک سفارشی بن کر سامنے آئے گا اور عرض کرے گا: «يَا رَبِّ حَمَّلْتَهُ إِيَّايَ فَكَانَ خَيْرَ حَامِلٍ، حَفِظَ حُدُودِي، وَعَمِلَ بِفَرَائِضِي، وَاجْتَنَبَ مَعْصِيَتِي، وَعَمِلَ بِطَاعَتِي» ”اے میرے رب! تو نے اسے میرا حامل بنایا تھا اور یہ بہترین حامل ثابت ہوا؛ اس نے میری حدود کی پاسداری کی، میرے فرائض پر عمل پیرا رہا، میری نافرمانیوں سے اجتناب کیا اور میری اطاعت بجا لایا۔“ وہ اس کے حق میں مسلسل دلائل پیش کرتا رہے گا یہاں تک کہ کہا جائے گا: ”اب تم جانو اور یہ جانے (یعنی اس کے ساتھ جو چاہو کرو)“، پھر قرآن اس کا ہاتھ تھام لے گا اور اسے نہیں چھوڑے گا یہاں تک کہ اسے باریک و دبیز ریشم (استبرق) کا لباس پہنا دے گا، اس کے سر پر شاہی تاج سجا دے گا اور اسے (جنت کی) لذیذ شراب کا جام پلائے گا۔“
یہ سند حسن ہے۔