المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب فضائل القرآن— قرآن مجید کے فضائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ القراء باب: قراءِ کرام کی فضیلت و منقبت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3492
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا الْخَلِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا ، ثَنَا مُجَالِدٌ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لِلهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَهْلِينَ مِنَ النَّاسِ " . قَالُوا : مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هُمْ أَهْلُ الْقُرْآنِ " .ترجمہ
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک لوگوں میں سے کچھ اللہ تبارک و تعالیٰ کے اپنے خاص لوگ ہوتے ہیں۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! وہ کون لوگ ہیں؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”وہ قرآن والے ہیں (جو اس کی تلاوت، فہم اور اس پر عمل کرنے سے وابستہ ہیں)۔“
اس روایت کے راوی خلیل بن زکریا اور مجالد بن سعید میں علمی کلام ہے، تاہم اس حدیث کے شواہد سنن ابن ماجہ (215) اور مسند احمد (12279) میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں، جس کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ کے درجے میں ہے۔