المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب فضائل القرآن— قرآن مجید کے فضائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ القراء باب: قراءِ کرام کی فضیلت و منقبت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3490
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ ... " الْحَدِيثَ .ترجمہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”حسد (یعنی رشک) صرف دو ہی صورتوں میں جائز ہے: ایک اس شخص کے معاملے میں جسے اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید (کا علم اور حفظ) عطا فرمایا اور وہ رات اور دن کی گھڑیوں میں اس کی تلاوت کرتا (اور اس پر عمل پیرا رہتا) ہے، اور دوسرا وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے مال و دولت سے نوازا اور وہ اسے رات اور دن کے اوقات میں (نیک کاموں میں) خرچ کرتا ہے۔“
اسے امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس کی اصل صحیح بخاری (7529) اور صحیح مسلم (816) میں موجود ہے۔