❮
❯
حدیث نمبر: 3483
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ثَنَا أَبُو وَائِلٍ الْقَاصُّ الْمُرَادِيُّ الصَّنْعَانِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ هَانِئَ الْبَرْبَرِيَّ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ( رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ) يَقُولُ : لَمَّا كَانَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَكْتُبُ الْمَصَاحِفَ شَكُّوا فِي ثَلَاثِ آيَاتٍ ، فَكَتَبُوهَا فِي كَتِفِ شَاةٍ ، ( وَأَرْسَلُونِي ) إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، ( فَدَخَلْتُ عَلَيْهِمَا ، فَنَاوَلْتُهَا إِلَى ) أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَقَرَأَهَا فَوَجَدَ فِيهَا : لَا تَبْدِيلَ لِلْخَلْقِ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ ، فَمَحَى بِيَدِهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَحَدَ اللَّامَيْنِ ، وَكَتَبَهَا : لا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللهِ قَالَ : وَوَجَدَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِيهَا : " انْظُرْ إِلَى طَعَامِكَ وَشَرَابِكَ لَمْ يَتَسَنَّ " ، فَمَحَى النُّونَ وَكَتَبَهَا لَمْ يَتَسَنَّهْ وَقَرَأَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْهَا : " فَأَمْهِلِ الْكَافِرِينَ " فَمَحَى الْأَلِفَ وَكَتَبَهَا ( فَمَهِّلِ ) ، قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ فِيهَا ، فَنَظَرَ فِيهَا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ثُمَّ انْطَلَقْتُ بِهَا إِلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَأَثْبَتُوهَا فِي الْمَصَاحِفِ كَذَلِكَ
هَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ .
ترجمہ

سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہانئ البربری سے روایت ہے کہ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ قرآن مجید کے نسخے (مصاحف) تیار کروا رہے تھے تو کاتبوں کو تین آیات کے متعلق کچھ شک ہوا، چنانچہ انہوں نے ان آیات کو بکری کے شانے کی ہڈی پر لکھا اور مجھے سیدنا ابی بن کعب اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہما کی طرف بھیجا۔ میں ان دونوں حضرات کی خدمت میں حاضر ہوا اور وہ ہڈی سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو تھما دی، انہوں نے اسے پڑھا تو وہاں یہ لکھا ہوا پایا: ”لا تبدیل للخلق ذلک الدین القیم“، تو انہوں نے اپنے ہاتھ سے دو لام میں سے ایک کو مٹا دیا اور اسے ﴿لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ﴾ [سورة الروم: 30] کی صورت میں لکھ دیا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے اس میں یہ بھی لکھا ہوا پایا: ”انظر الی طعامک وشرابک لم يتسن“، تو انہوں نے نون کو مٹا کر اسے ﴿لَمْ يَتَسَنَّهْ﴾ [سورة البقرة: 259] کر دیا۔ پھر انہوں نے وہاں سے یہ پڑھا: ”فأمهل الكافرين“، تو انہوں نے الف کو مٹا دیا اور اسے ﴿فَمَهِّلِ الْكَافِرِينَ﴾ [سورة الطارق: 17] کی صورت میں لکھ دیا۔ راوی کہتے ہیں کہ میرا گمان یہی ہے کہ انہوں نے اسی طرح فرمایا تھا۔ پھر سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بھی اس تحریر کو ملاحظہ فرمایا، جس کے بعد میں اسے لے کر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس واپس آ گیا اور ان حضرات نے مصاحف میں ان آیات کو اسی طرح (درست کر کے) درج کر دیا۔
یہ اسناد ضعیف ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 3483
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: هَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ . »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»