المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب فضائل القرآن— قرآن مجید کے فضائل کا بیان۔
باب (أحاديث 3472–3481) باب: (احادیث 3472 تا 3481)
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَخِيهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَقْتَرِئُ الْقُرْآنَ يُقْرِئُ بَعْضُنَا بَعْضًا ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْحَمْدُ لِلهِ كِتَابُ اللهِ وَاحِدٌ ، فِيكُمُ الْأَخْيَارُ ، وَالْأَحْمَرُ وَالْأَسْوَدُ ، اقْرَؤُوا الْقُرْآنَ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَ قَوْمٌ يَقْرَؤُونَهُ يُقِيمُونَ حُرُوفَ الْقُرْآنِ كَمَا يُقَامُ السَّهْمُ لَا يَتَجَاوَزُ تَرَاقِيَهُمْ ، يَتَعَجَّلُونَ ثَوَابَهُ وَلَا يَتَأَجَّلُونَهُ " .سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور اس وقت ہم قرآن مجید کی تلاوت کر رہے تھے اور ایک دوسرے کو قرآن پڑھا رہے تھے، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: «الْحَمْدُ لِلهِ» ”تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اللہ کی کتاب ایک ہی ہے، تم میں امت کے بہترین لوگ بھی موجود ہیں اور سرخ و سیاہ یعنی ہر رنگ و نسل کے لوگ بھی شامل ہیں۔ تم لوگ قرآن پڑھتے رہو، قبل اس کے کہ ایسی قوم آئے گی جو قرآن کے حروف کو اس طرح انتہائی تکلف سے سیدھا کریں گے جیسے تیر کو سیدھا کیا جاتا ہے، لیکن وہ قرآن ان کے حلقوں سے نیچے نہیں اترے گا، وہ اس کی تلاوت پر دنیاوی مفاد اور اجرت حاصل کرنے میں جلدی کریں گے اور اس کے اخروی ثواب کی طلب نہیں رکھیں گے۔“
اس روایت کی سند میں موسیٰ بن عبیدہ الربذی ضعیف راوی ہے، تاہم اس مفہوم کی دیگر روایات سنن ابی داؤد اور مسند احمد میں موجود ہیں جو اس کے معنی کی تقویت کرتی ہیں۔