المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب فضائل القرآن— قرآن مجید کے فضائل کا بیان۔
باب (أحاديث 3472–3481) باب: (احادیث 3472 تا 3481)
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا هَوْذَةُ ، ثَنَا عَوْفٌ قَالَ : بَلَغَنِي أَنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ عَلَى الْمِنْبَرِ : أُذَكِّرُ اللهَ تَعَالَى رَجُلًا سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ كُلُّهُنَّ شَافٍ كَافٍ " لَمَا قَامَ ، فَقَامُوا حَتَّى لَمْ يُحْصَوْا فَشَهِدُوا بِذَلِكَ ، فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : وَأَنَا أَشْهَدُ مَعَكُمْ ثَلَاثًا ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَلِكَ .
3480 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُوسَى ، ثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، ثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ قَالَ : بَلَغَنَا أَنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ يَوْمًا وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ : أُذَكِّرُ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ رَجُلًا سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَهُ .سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے منبر پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ”میں اس شخص کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر یاد دہانی کراتا ہوں جس نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہو کہ: ”بے شک قرآن کریم سات حروف پر نازل کیا گیا ہے، وہ تمام کے تمام «شافٍ كافٍ» ”شفا بخش اور کفایت کرنے والے“ ہیں“، وہ ضرور کھڑا ہو جائے“، چنانچہ اتنے زیادہ لوگ کھڑے ہو گئے کہ جنہیں شمار کرنا ممکن نہ رہا اور ان سب نے اس بات کی گواہی دی، تب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے تین مرتبہ فرمایا: ”میں بھی تمہارے ساتھ اس بات کی گواہی دیتا ہوں، میں نے خود رسول اللہ ﷺ کو یہی ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے“۔
امام ابو یعلیٰ نے ابومنہال کے واسطے سے روایت کیا کہ ہمیں یہ خبر پہنچی کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ایک دن منبر پر تشریف فرما ہو کر فرمایا: ”میں اس شخص کو اللہ عزوجل کا واسطہ دے کر یاد دلاتا ہوں جس نے نبی کریم ﷺ سے یہ بات سنی ہو“، پھر انہوں نے سابقہ روایت کے مثل حدیث بیان کی۔