المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب فضائل القرآن— قرآن مجید کے فضائل کا بیان۔
باب (أحاديث 3472–3481) باب: (احادیث 3472 تا 3481)
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ عَنْ عُقَيْلِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ ابْنِ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : كَانَ الْكِتَابُ الْأَوَّلُ يَنْزِلُ مِنْ بَابٍ وَاحِدٍ عَلَى حَرْفٍ وَاحِدٍ ، وَأُنْزِلَ الْقُرْآنُ مِنْ سَبْعَةِ أَبْوَابٍ ، عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ : زَاجِرٍ ، وَآمِرٍ ، وَحَلَالٍ وَحَرَامٍ ، وَمُحْكَمٍ وَمُتَشَابِهٍ ، وَأَمْثَالٍ ، فَآمِنُوا بِحَلَالِهِ وَحَرِّمُوا حَرَامَهُ ، وَافْعَلُوا مَا أُمِرْتُمْ بِهِ ، وَانْتَهُوا عَمَّا نُهِيتُمْ عَنْهُ ، وَاعْتَبِرُوا بِأَمْثَالِهِ ، وَاعْمَلُوا بِمُحْكَمِهِ ، وَآمِنُوا بِمُتَشَابِهِهِ ، وَقُولُوا : آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا .
3479 \ 2 - وَقَالَ الْبَزَّارُ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ ، ثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، يَعْنِي أَبَا بَكْرٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ ، لِكُلِّ حَرْفٍ مِنْهَا ظَهْرٌ وَبَطْنٌ "
وَقَالَ : لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْهَجَرِيِّ إِلَّا ابْنُ عَجْلَانَ ، وَلَا رَوَاهُ هَكَذَا إِلَّا الْهَجَرِيُّ .
3479 \ 3 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ زَنْجَلَةَ الرَّازِيُّ ، ثَنَا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، عَنْ أَخِيهِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بِهِ .سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ”پہلی (آسمانی) کتاب ایک ہی دروازے سے ایک ہی حرف (طریقے) پر نازل ہوتی تھی، جبکہ قرآن کریم سات ابواب سے سات حروف (اقسام) پر نازل کیا گیا ہے: روکنے والا، حکم دینے والا، حلال، حرام، محکم، متشابہ اور امثال؛ پس تم اس کے حلال کو حلال جانو، اس کے حرام کو حرام قرار دو، جس کا تمہیں حکم دیا گیا ہے اسے بجا لاؤ، جس سے منع کیا گیا ہے اس سے رک جاؤ، اس کی مثالوں سے عبرت حاصل کرو، اس کی محکم آیات پر عمل کرو، اس کی متشابہ آیات پر ایمان لاؤ اور یہ کہو: ﴿آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا﴾ [سورة آل عمران: 7] ”ہم اس پر ایمان لائے، یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہے“۔“
امام بزار نے اپنی سند سے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک قرآن سات حروف پر نازل کیا گیا ہے، ہر حرف کا ایک ظاہر (نمایاں پہلو) ہے اور ایک باطن (پوشیدہ پہلو) ہے“۔
امام بزار نے کہا کہ اسے ہجری نامی راوی سے سوائے ابن عجلان کے کسی نے روایت نہیں کیا، اور نہ ہی کسی نے اسے ہجری کی طرح روایت کیا ہے۔
امام ابو یعلیٰ نے بھی ایک دوسری سند کے ساتھ اسی کے مثل روایت کیا ہے۔