المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ بِنَاءِ الْمَسَاجِدِ وَتَوْسِيعِهَا باب: مساجد کی تعمیر اور ان کی توسیع کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَيَّانَ ، ثَنَا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : ( لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَزِيدَ فِي قِبْلَتِنَا " لَمَا زِدْتُ ) .
348 \ 2 - حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ ، مِثْلَهُ .
قَالَ الْعُمَرِيُّ : فَزَادَ مَا بَيْنَ الْمِنْبَرِ إِلَى مَوْضِعِ الْمَقْصُورَةِ .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے والد سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ”اگر میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا کہ ”بے شک میں اپنی اس قبلہ گاہ (یعنی مسجدِ نبوی) میں اضافہ کرنا چاہتا ہوں“، تو میں اس میں ہرگز اضافہ نہ کرتا۔“
امام ابو یعلیٰ اور امام ابو خیثمہ نے اس حدیث کو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی سند سے اسی طرح روایت کیا ہے
راویِ حدیث عُمری بیان کرتے ہیں کہ (اس منشاِ نبوی کی تکمیل میں) سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے منبر سے لے کر مقصورہ (مقامِ امام) تک کی جگہ مسجد میں شامل کر کے اس میں اضافہ فرمایا۔