المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب فضائل القرآن— قرآن مجید کے فضائل کا بیان۔
باب (أحاديث 3472–3481) باب: (احادیث 3472 تا 3481)
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، ثَنَا بَشِيرُ بْنُ الْمُهَاجِرِ ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " إِنَّ الْقُرْآنَ يَلْقَى صَاحِبَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حِينَ يَنْشَقُّ عَنْهُ قَبْرُهُ كَالرَّجُلِ الشَّاحِبِ ، يَقُولُ : هَلْ تَعْرِفُنِي ؟ فَيَقُولُ لَهُ : مَا أَعْرِفُكَ . فَيَقُولُ : أَنَا صَاحِبُكَ الْقُرْآنُ الَّذِي أَظْمَأْتُكَ فِي الْهَوَاجِرِ ، وَأَسْهَرْتُ لَيْلَكَ ، وَإِنَّ كُلَّ تَاجِرٍ مِنْ وَرَاءِ تِجَارَتِهِ ، وَإِنَّكَ الْيَوْمَ مِنْ وَرَاءِ كُلِّ تَاجِرٍ . قَالَ : فَيُعْطَى الْمُلْكَ بِيَمِينِهِ وَالْخُلْدَ بِشِمَالِهِ ، وَيُوضَعُ عَلَى رَأْسِهِ تَاجُ الْوَقَارِ ، وَيُكْسَى وَالِدَاهُ حُلَّتَيْنِ لَا يُقَوَّمُ لَهُمَا أَهْلُ الدُّنْيَا ، فَيَقُولَانِ : بِمَ كَسَبْنَا هَذَا ؟ فَيُقَالُ : بِأَخْذِ وَلَدِكُمَا الْقُرْآنَ ، ثُمَّ يُقَالُ : اقْرَأْ وَاصْعَدْ فِي دَرَجَةِ الْجَنَّةِ وَغُرَفِهَا ، فَهُوَ فِي صُعُودٍ مَا دَامَ كَانَ يَقْرَأُ ، هَذًّا كَانَ أَوْ تَرْتِيلًا "
هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ ، رَوَى ابْنُ مَاجَهْ مِنْ أَوَّلِهِ إِلَى قَوْلِهِ : أَسْهَرْتُ لَيْلَكَ
حَسَنٌ .سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر تھا، میں نے آپ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”بے شک قرآن قیامت کے دن اپنے پڑھنے والے سے اس وقت ملاقات کرے گا جب اس کی قبر شق ہوگی، وہ ایک ایسے شخص کی صورت میں آئے گا جس کا رنگ بدلا ہوا (یا نقاہت زدہ) ہو، وہ کہے گا: ”کیا تم مجھے پہچانتے ہو؟“ وہ شخص جواب دے گا: ”میں تمہیں نہیں پہچانتا۔“ وہ قرآن کہے گا: ”میں تمہارا وہی ساتھی قرآن ہوں جس نے (دن کی) سخت تپش اور گرمی میں تمہیں پیاسا رکھا اور تمہاری راتوں کو (عبادت کے لیے) بیدار رکھا، اور حقیقت یہ ہے کہ ہر تاجر اپنی تجارت کے نفع کا منتظر ہوتا ہے، اور آج تم ہر تاجر سے بڑھ کر نفع پانے والے ہو۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر اس کے دائیں ہاتھ میں بادشاہت اور بائیں ہاتھ میں ہمیشگی دے دی جائے گی، اس کے سر پر وقار کا تاج رکھا جائے گا، اور اس کے والدین کو دو ایسے قیمتی لباس پہنائے جائیں گے جن کی قیمت دنیا والے مل کر بھی ادا نہیں کر سکتے، وہ دونوں (حیرت سے) پوچھیں گے: ”ہمیں یہ لباس کس وجہ سے پہنائے گئے ہیں؟“ تو کہا جائے گا: ”تمہارے فرزند کے قرآن حاصل کرنے (اسے پڑھنے اور عمل کرنے) کی بدولت۔“ پھر اس سے کہا جائے گا: ”پڑھتے جاؤ اور جنت کے درجات اور اس کے بالا خانوں میں بلندی کی طرف چڑھتے جاؤ۔“ چنانچہ وہ جب تک تلاوت کرتا رہے گا، مسلسل اوپر چڑھتا ہی جائے گا، خواہ وہ تلاوت تیزی سے کرے یا ٹھہر ٹھہر کر خوش الحانی (ترتیل) کے ساتھ۔“
اس کی سند حسن ہے، امام ابن ماجہ رحمہ اللہ نے اس حدیث کو اس کے آغاز سے لے کر ”أَسْهَرْتُ لَيْلَكَ“ کے الفاظ تک روایت کیا ہے
یہ حدیث حسن درجے کی ہے۔