❮
❯
حدیث نمبر: 3477
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ هُوَ ابْنُ وَكِيعٍ ، ثَنَا أَبِي ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ ابْنِ أَبِي حُمَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اعْمَلُوا بِالْقُرْآنِ ، أَحِلُّوا حَلَالَهُ ، وَحَرِّمُوا حَرَامَهُ ، وَاقْتَدُوا بِهِ ، وَلَا تَكْفُرُوا بِشَيْءٍ مِنْهُ ، وَمَا تَشَابَهَ عَلَيْكُمْ فَرُدُّوهُ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَإِلَى أُولِي الْعِلْمِ مِنْ بَعْدِي كَيْمَا يُخْبِرُوكُمْ ، وَآمِنُوا بِالتَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ ، وَلَا تَرُدُّوا مَا أُوتِيَ النَّبِيُّونَ مِنْ رَبِّهِمْ ، وَلْيَسَعْكُمُ الْقُرْآنُ وَمَا فِيهِ مِنَ الْبَيَانِ ، فَإِنَّهُ شَافِعٌ يُشَفَّعُ ، وَ ( مَاحِلٌ ) مُصَدَّقٌ ، وَإِنَّ بِكُلِّ آيَةٍ مِنْهُ نُورٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَإِنِّي أُعْطِيتُ سُورَةَ الْبَقَرَةِ مِنَ الذِّكْرِ الْأَوَّلِ ، وَأُعْطِيتُ طه وَالطَّوَاسِينَ مِنْ أَلْوَاحِ مُوسَى ، وَأُعْطِيتُ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ ، وَخَوَاتِيمَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ مِنْ كَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ ، وَأُعْطِيتُ الْمُفَصَّلَ نَافِلَةً .
ترجمہ

سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم قرآن کریم کے احکامات پر عمل کرو، اس کے حلال کردہ کو حلال جانو اور اس کے حرام کردہ کو حرام مانو، اسی کی پیروی کرو اور اس کے کسی بھی حصے کا انکار نہ کرو، اور جو کچھ اس میں سے تم پر مشتبہ ہو جائے تو اسے اللہ عزوجل اور میرے بعد اہل علم کی طرف لوٹا دو تاکہ وہ تمہیں اس کی حقیقت سے آگاہ کر سکیں، اور تورات و انجیل (کے من جانب اللہ ہونے) پر ایمان رکھو اور انبیاء علیہم السلام کو ان کے رب کی طرف سے جو کچھ عطا کیا گیا اسے رد نہ کرو، اور تمہارے لیے قرآن اور اس میں موجود بیان و وضاحت ہی کافی ہونی چاہیے، کیونکہ یہ ایسا شفاعت کرنے والا ہے جس کی شفاعت قبول کی جاتی ہے، اور ایسا (حق کے لیے) مقدمہ پیش کرنے والا ہے جس کے قول کی تصدیق کی جاتی ہے، اور بیشک قیامت کے دن قرآن کی ہر آیت ایک نور ہوگی، اور مجھے 'ذکرِ اول' (لوحِ محفوظ) سے سورہ البقرہ عطا کی گئی، اور مجھے موسیٰ علیہ السلام کی الواح (کے علوم) میں سے سورہ طہٰ اور 'طواسین' (طس سے شروع ہونے والی سورتیں) عطا کی گئیں، اور مجھے عرش کے نیچے موجود خاص خزانے سے فاتحہ الکتاب اور سورہ البقرہ کی آخری آیات دی گئیں، جبکہ 'مفصل' سورتیں مجھے زائد تحفے کے طور پر عطا کی گئی ہیں۔“
[تخريج: مسند أبي يعلى: 1515، المعجم الكبير للطبراني: 20/219، وفي سنده عبيد الله بن أبي حميد وهو ضعيف]

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 3477
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :هذا إسناد ضعيف جدًا »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 782، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 5925»