المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب فضائل القرآن— قرآن مجید کے فضائل کا بیان۔
باب (أحاديث 3472–3481) باب: (احادیث 3472 تا 3481)
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ الْقُرَظِيُّ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِنْ كِتَابِ اللهِ تَعَالَى كَتَبَ اللهُ تَعَالَى لَهُ بِهِ حَسَنَةً ، لَا أَقُولُ : الم حَرْفٌ ، وَلَكِنَّ الْحُرُوفَ مُقَطَّعَةٌ : الْأَلِفُ ، وَاللَّامُ ، وَالْمِيمُ . "
3475 \ 2 - وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ فَقَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبَانَ ثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ بِهِ .سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی کتاب کا ایک حرف تلاوت کیا، اللہ تعالیٰ اس کے صلے میں اس کے لیے ایک نیکی لکھ دیتا ہے؛ میں یہ نہیں کہتا کہ «الٓمّٓ» ایک ہی حرف ہے، بلکہ یہ حروف الگ الگ اور جدا جدا ہیں: «الْأَلِفُ» (الف) ایک حرف ہے، «اللَّامُ» (لام) ایک حرف ہے اور «الْمِيمُ» (میم) ایک حرف ہے۔“
اسے امام بزار نے بھی روایت کیا ہے، انہوں نے کہا کہ ہمیں احمد بن ابان نے حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں عبدالعزیز بن محمد نے اور انہوں نے موسیٰ بن عبیدہ کے واسطے سے مذکورہ بالا سند کے ساتھ یہ حدیث بیان کی ہے۔