❮
❯
حدیث نمبر: 3475
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ الْقُرَظِيُّ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِنْ كِتَابِ اللهِ تَعَالَى كَتَبَ اللهُ تَعَالَى لَهُ بِهِ حَسَنَةً ، لَا أَقُولُ : الم حَرْفٌ ، وَلَكِنَّ الْحُرُوفَ مُقَطَّعَةٌ : الْأَلِفُ ، وَاللَّامُ ، وَالْمِيمُ . "
3475 \ 2 - وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ فَقَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبَانَ ثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ بِهِ .
ترجمہ

سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی کتاب کا ایک حرف تلاوت کیا، اللہ تعالیٰ اس کے صلے میں اس کے لیے ایک نیکی لکھ دیتا ہے؛ میں یہ نہیں کہتا کہ «الٓمّٓ» ایک ہی حرف ہے، بلکہ یہ حروف الگ الگ اور جدا جدا ہیں: «الْأَلِفُ» (الف) ایک حرف ہے، «اللَّامُ» (لام) ایک حرف ہے اور «الْمِيمُ» (میم) ایک حرف ہے۔“
اسے امام بزار نے بھی روایت کیا ہے، انہوں نے کہا کہ ہمیں احمد بن ابان نے حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں عبدالعزیز بن محمد نے اور انہوں نے موسیٰ بن عبیدہ کے واسطے سے مذکورہ بالا سند کے ساتھ یہ حدیث بیان کی ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 3475
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :هذا إسناد ضعيف لضعف موسى بن عبيدة الربذي »
«أخرجه سنن الترمذي برقم: 2910، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 2، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 5963/1»