المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب فضائل القرآن— قرآن مجید کے فضائل کا بیان۔
باب (أحاديث 3472–3481) باب: (احادیث 3472 تا 3481)
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مَرْوَانَ أَبُو صَخْرٍ ، ثَنَا بَكْرُ بْنُ يُونُسَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُلَيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ قَرَأَ أَلْفَ آيَةٍ كَتَبَ اللهُ تَعَالَى لَهُ قِنْطَارً وَالْقِنْطَارُ مِائَةُ رَطْلٍ ، وَالرَّطْلُ : اثْنَتَا عَشْرَةَ أُوقِيَّةً ، وَالْوُقِيَّةُ سِتَّةُ دَنَانِيرَ ، وَالدِّينَارُ أَرْبَعَةٌ وَعِشْرُونَ قِيرَاطًا ، وَالْقِيرَاطُ مِثْلُ ( أُحُدٍ ) ، وَمَنْ قَرَأَ ثَلَاثَمِائَةِ ( آيَةٍ ) قَالَ اللهُ تَعَالَى لِمَلَائِكَتِهِ : يَا مَلَائِكَتِي نَصَّبْتُ عَبْدِي ، ( أُشْهِدُكُمْ ) يَا مَلَائِكَتِي أَنَّى قَدْ غَفَرْتُ ( لَهُ ) ، وَمَنْ بَلَغَهُ عَنِ اللهِ ( عَزَّ وَجَلَّ ) فَضِيلَةٌ فَعَمِلَ بِهَا إِيمَانًا وَرَجَاءَ ثَوَابِهِ أَعْطَاهُ ( اللهُ ) ذَلِكَ ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ ( ذَلِكَ كَذَلِكَ ) .سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے (رات کے قیام میں) ایک ہزار آیات کی تلاوت کی، اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک قنطار (اجر کا عظیم ذخیرہ) لکھ دیتا ہے؛ اور ایک قنطار سو رطل کے برابر ہوتا ہے، ایک رطل بارہ اوقیہ کا، ایک اوقیہ چھ دینار کا، ایک دینار چوبیس قیراط کا ہوتا ہے اور ایک قیراط احد پہاڑ کی مانند (عظیم) ہوتا ہے۔ اور جس نے تین سو آیات کی تلاوت کی، اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے: «يَا مَلَائِكَتِي نَصَّبْتُ عَبْدِي» ”اے میرے فرشتو! میں نے اپنے بندے کو (عبادت کی خاطر) مشقت میں ڈالا ہے“، «أُشْهِدُكُمْ يَا مَلَائِكَتِي أَنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُ» ”اے میرے فرشتو! میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اسے یقیناً بخش دیا ہے“۔ اور جس شخص تک اللہ عزوجل کی جانب سے کسی عمل کی فضیلت پہنچی، پھر اس نے اس پر ایمان لاتے ہوئے اور ثواب کی امید رکھتے ہوئے عمل کیا، تو اللہ تعالیٰ اسے وہ اجر عطا فرما دے گا، اگرچہ وہ (فضیلت کی خبر ثبوت کے اعتبار سے) ویسی نہ بھی ہو۔“
إسناده ضعيف؛ أخرجه أبو يعلى في مسنده (3474)، وفي سنده بكر بن يونس بن بكير وهو ضعيف عند الأئمة، وللحديث شواهد في فضل القنطار وتلاوة القرآن، والجملة الأخيرة لها شواهد في أحاديث ”من بلغه عن الله فضيلة“.