المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب فضائل القرآن— قرآن مجید کے فضائل کا بیان۔
باب (أحاديث 3472–3481) باب: (احادیث 3472 تا 3481)
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، ثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَرَأَ فِي لَيْلَةٍ مِائَةَ آيَةٍ لَمْ يُحَاجَّهُ الْقُرْآنُ ، وَمَنْ قَرَأَ بِمِائَتَيْنِ كَتَبَ ( اللهُ تَعَالَى ) لَهُ قُنُوتَ لَيْلَةٍ ، وَمَنْ قَرَأَ بِالْمِائَةِ إِلَى الْأَلْفِ أَصْبَحَ لَهُ قِنْطَارٌ ، وَالْقِنْطَارُ دِيَةُ أَحَدِكُمُ ، ( اثْنَيْ ) عَشَرَ أَلْفًا قَالَ : " وَإِنَّ أَصْغَرَ ( الْبُيُوتِ ) مِنَ الْخَيْرِ لَلْبَيْتُ الَّذِي لَا يُقْرَأُ فِيهِ الْقُرْآنُ .امام حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے کسی ایک رات میں سو آیات کی تلاوت کی تو قرآن (قیامت کے دن) اس کے خلاف حجت اور بازپرس نہیں کرے گا، اور جس نے دو سو آیات تلاوت کیں تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے پوری رات کی عبادت و بندگی کا ثواب لکھ دیتا ہے، اور جس نے سو سے لے کر ایک ہزار آیات تک کی تلاوت کی تو صبح اس کے لیے ایک قنطار (اجر کا عظیم ذخیرہ) ثابت ہو چکا ہوتا ہے، اور ایک قنطار تم میں سے کسی ایک کی مکمل دیت کے برابر یعنی بارہ ہزار (درہم یا دینار) ہے۔“ نیز آپ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک خیر و برکت سے سب سے زیادہ خالی اور اجاڑ وہ گھر ہے جس میں قرآنِ مجید کی تلاوت نہیں کی جاتی۔“
اس حدیث کی تخریج امام حارث بن ابی اسامہ نے اپنی مسند میں کی ہے۔