المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب أحاديث الأنبياء عليهم الصلاة والسلام— انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات و احادیث کا بیان۔
بَابُ مَا كان فِي بَنِي إسرائيل باب: بنی اسرائیل میں پیش آنے والے احوال و واقعات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَتَلَ رَجُلٌ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا ، ثُمَّ أَرَادَ التَّوْبَةَ ، فَأَتَى رَاهِبًا بِأَرْضٍ عَرِيَّةٍ فَقَالَ : يَا رَاهِبُ ، قَتَلْتُ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا ، فَهَلْ لِي مِنْ تَوْبَةٍ ؟ قَالَ : لَا . قَالَ : لَا جَرَمَ ، وَاللهِ لَأُكْمِلَنَّهُمْ بِكَ مِائَةً . ثُمَّ أَتَى رَاهِبًا آخَرَ ، قَالَ : إِنِّي قَتَلْتُ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا وَكَمَّلْتُهُمْ مِائَةً بِرَاهِبٍ ، فَهَلْ لِي مِنْ تَوْبَةٍ ؟ فَقَالَ : لَقَدْ أَسْرَفْتَ عَلَى نَفْسِكَ وَرَكِبْتَ عَظِيمًا ، وَمَنْ تَابَ تَابَ اللهُ عَلَيْهِ . قَالَ : فَنَبَذَ السَّيْفَ ، وَقَالَ : وَاللهِ لَأَخْدُمَنَّكَ حَتَّى يُفَرِّقَ بَيْنَنَا الْمَوْتُ . قَالَ : عَاهَدَهُ أَنْ لَا يَعْصِيَهُ ، قَالَ : فَجَاءَ قَوْمٌ سَفَرًا أَوْ مُسْنِتُونَ وَكَانَ يَتَطَبَّبُ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : تَأْمُرُنِي بِشَيْءٍ ؟
قَالَ : اذْهَبْ فَاسْجُرِ التَّنُّورَ . قَالَ : فَذَهَبَ فَسَجَرَهُ حَتَّى حَمِيَ . فَقَالَ : قَدْ حَمِيَ ، فَمَا تَأْمُرُنِي ؟ قَالَ : اذْهَبْ فَقْعَ فِيهِ . قَالَ : فَذَهَبَ فَوَقَعَ فِيهِ ، ثُمَّ ادَّكَرَ الرَّاهِبُ فَقَامَ وَقَامَ مَنْ مَعَهُ ، فَإِذَا هُوَ فِي التَّنُّورِ يَرْشَحُ عَرَقًا لَمْ تَضُرَّهُ النَّارُ . فَقَالَ الرَّاهِبُ : قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ تَوْبَتَكَ قَدْ قُبِلَتْ ، فَلَأَخْدُمَنَّكَ أَبَدًا حَتَّى تُفَارِقَنِي .
إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ .
وَلَهُ شَاهِدٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ”ایک شخص نے ننانوے افراد کو قتل کیا، پھر اس نے توبہ کا ارادہ کیا، چنانچہ وہ ایک بنجر و ویران زمین پر رہنے والے ایک راہب کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے راہب! میں نے ننانوے انسانوں کو قتل کیا ہے، تو کیا میرے لیے توبہ کی کوئی گنجائش ہے؟ اس نے جواب دیا: نہیں۔ اس شخص نے کہا: تو پھر حقیقت یہی ہے کہ اللہ کی قسم! میں تمہیں قتل کر کے ان کی تعداد سو پوری کر دوں گا۔ پھر وہ ایک دوسرے عالم راہب کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں نے ننانوے جانیں لی تھیں اور پھر ایک راہب کو مار کر سو کی گنتی مکمل کر لی ہے، تو کیا اب میرے لیے توبہ کی کوئی صورت ہے؟ اس نے کہا: یقیناً تم نے اپنی جان پر بہت زیادتی کی ہے اور ایک نہایت سنگین گناہ کا ارتکاب کیا ہے، لیکن یاد رکھو کہ جو توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔ راوی کہتے ہیں: اس شخص نے فوراً اپنی تلوار پھینک دی اور کہنے لگا: اللہ کی قسم! اب میں موت کے جدا کرنے تک تمہاری ہی خدمت گزاری کروں گا۔ راوی نے بیان کیا کہ اس نے راہب سے یہ عہد کر لیا کہ وہ کبھی اس کی نافرمانی نہیں کرے گا۔ پھر کچھ مسافر یا قحط زدہ لوگ وہاں آئے اور وہ راہب طبابت و علاج معالجہ کیا کرتا تھا، اس شخص نے راہب سے دریافت کیا: کیا آپ مجھے کسی کام کا حکم دیتے ہیں؟ راہب نے کہا: جاؤ اور تندور دہکاؤ۔ چنانچہ وہ گیا اور تندور کو اس قدر دہکایا کہ وہ آگ سے خوب گرم ہو گیا۔ پھر اس نے آ کر عرض کیا: تندور گرم ہو چکا ہے، اب میرے لیے کیا حکم ہے؟ راہب نے کہا: جاؤ اور اس کے اندر کود جاؤ۔ وہ گیا اور تندور میں چھلانگ لگا دی، پھر راہب کو فوراً اس کا خیال آیا تو وہ اور اس کے ساتھ موجود لوگ اٹھ کر وہاں پہنچے تو دیکھا کہ وہ شخص تندور کے اندر پسینے میں شرابور ہے جبکہ آگ نے اسے ذرہ برابر بھی نقصان نہیں پہنچایا۔ تب راہب نے کہا: اب مجھے پختہ علم ہو گیا ہے کہ تمہاری توبہ بارگاہِ الہی میں قبول ہو چکی ہے، لہٰذا اب میں ہمیشہ تمہاری خدمت کروں گا یہاں تک کہ تم مجھ سے جدا ہو جاؤ۔“
اس کی سند صحیح ہے اور صحیح بخاری و مسلم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے اس کا شاہد موجود ہے۔