❮
❯
حدیث نمبر: 3464
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، ثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : كَانَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ ، أَوْ فِي بَعْضِ الْمُلُوكِ رَجُلٌ ، فَقَالَ : لَا أَعْلَمُ الْيَوْمَ أَحَدًا أَعَزَّ مِنِّي . قَالَ : فَبَعَثَ اللهُ تَعَالَى إِلَيْهِ أَضْعَفَ خَلْقِهِ فَدَخَلَتْ فِي مَنْخِرِهِ ، فَجَعَلَ يَقُولُ : اضْرِبُوا ، اضْرِبُوا ، فَضَرَبُوا رَأْسَهُ بِالْفُؤُوسِ حَتَّى هَشَّمُوا رَأْسَهُ .
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”بنی اسرائیل میں یا (گزشتہ زمانے کے) بادشاہوں میں ایک شخص تھا، جس نے (تکبر کا اظہار کرتے ہوئے) یہ کہا: ”میں آج کے دن اپنے سے زیادہ کسی کو باعزت و بااختیار نہیں جانتا۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف اپنی مخلوق میں سے ایک نہایت کمزور ترین جاندار بھیجا جو اس کے نتھنے میں داخل ہو گیا، پس (تکلیف کی شدت سے) وہ شخص یہ پکارنے لگا: ”مارو، مجھے مارو!“ چنانچہ لوگوں نے کلہاڑیوں کے ساتھ اس کے سر پر ضربیں لگانا شروع کر دیں یہاں تک کہ انہوں نے اس کا سر کچل کر پاش پاش کر دیا۔“
اس روایت کی تخریج امام اسحاق بن راہویہ نے اپنی مسند میں کی ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب أحاديث الأنبياء عليهم الصلاة والسلام / حدیث: 3464
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، منقطع
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :رجاله ثقات، إلَّا أنه منقطع بين أبي عبيدة وأبيه. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»