المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب أحاديث الأنبياء عليهم الصلاة والسلام— انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات و احادیث کا بیان۔
بَابُ الخضر واليسع عليهما السلام باب: حضرت خضر اور حضرت الیسع علیہما السلام کا بیان۔
حدیث نمبر: 3463
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ وَاقِدٍ ، ثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ بَهْرَامَ ، ثَنَا أَبَانُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْخَضِرَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي الْبَحْرِ ، وَالْيَسَعَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي الْبَرِّ ، يَجْتَمِعَانِ كُلَّ لَيْلَةٍ عِنْدَ الرَّدْمِ الَّذِي بَنَاهُ ذُو الْقَرْنَيْنِ بَيْنَ النَّاسِ وَبَيْنَ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ ، وَيَحُجَّانِ وَيَعْتَمِرَانِ كُلَّ عَامٍ ، فَيَشْرَبَانِ مِنْ زَمْزَمَ شَرْبَةً تَكْفِيهِمَا إِلَى قَابِلٍ .
ضَعِيفٌ جِدًّا .ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک خضر علیہ السلام سمندر میں اور الیسع علیہ السلام خشکی میں قیام پذیر ہیں، یہ دونوں ہستیاں ہر رات اس عظیم دیوار کے پاس اکٹھی ہوتی ہیں جسے ذوالقرنین نے عام انسانوں اور یاجوج ماجوج کے درمیان تعمیر کیا تھا، نیز یہ دونوں ہر سال حج اور عمرہ ادا کرتے ہیں، اور آبِ زمزم کا ایک ایسا گھونٹ نوش فرماتے ہیں جو انہیں اگلے سال تک کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔“
یہ روایت سنداً سخت ضعیف (انتہائی کمزور) ہے۔