المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب أحاديث الأنبياء عليهم الصلاة والسلام— انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات و احادیث کا بیان۔
بَابُ قصة كرسف باب: کرسف کے واقعے کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو طَالِبٍ عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عَاصِمٍ ، ثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ بُسْرٍ الْمَازِنِيِّ قَالَ : جَاءَ عَكَّافُ بْنُ وَدَاعَةَ الْهِلَالِيُّ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ الرَّسُولُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عَكَّافُ أَلَكَ زَوْجَةٌ ؟ " قَالَ : لَا ... الْحَدِيثَ ، وَفِيهِ : " إِنَّهُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ ، وَدَاوُدَ وَكُرْسُفَ " . فَقَالَ : وَمَا كُرْسُفُ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَجُلٌ كَانَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى سَاحِلٍ مِنْ سَوَاحِلِ الْبَحْرِ ، يَصُومُ النَّهَارَ ، وَيَقُومُ اللَّيْلَ ، لَا يَفْتُرُ مِنْ صَلَاةٍ وَصِيَامٍ ، ثُمَّ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ بِاللهِ الْعَظِيمِ فِي سَبَبِ امْرَأَةٍ عَشِقَهَا ، فَتَرَكَ مَا كَانَ عَلَيْهِ مِنْ عِبَادَةِ رَبِّهِ ، فَتَدَارَكَهُ اللهُ تَعَالَى بِمَا سَلَفَ مِنْهُ فَتَابَ عَلَيْهِ " .سیدنا عطیہ بن بسر المازنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عکاف بن وداعہ ہلالی رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے ان سے دریافت فرمایا: ”اے عکاف! کیا تمہاری کوئی بیوی ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: جی نہیں... (پھر راوی نے مکمل حدیث بیان کی) جس میں یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک یہ (عورتیں) یوسف، داود اور کرسف کو آزمائش میں ڈالنے والیاں ہیں۔“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ کرسف کون ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”وہ بنی اسرائیل کا ایک شخص تھا جو سمندر کے ساحلوں میں سے ایک ساحل پر (عبادت گزار بن کر) رہتا تھا، وہ دن کو روزہ رکھتا اور رات کو قیام کرتا تھا اور نماز و روزے کی کثرت سے کبھی سستی نہیں کرتا تھا، پھر وہ ایک عورت کے عشق میں مبتلا ہو کر اللہ عظیم کے ساتھ کفر کر بیٹھا، چنانچہ اس نے اپنے رب کی وہ تمام عبادت چھوڑ دی جس میں وہ مگن رہا کرتا تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی سابقہ نیکیوں کی وجہ سے اس کی دستگیری فرمائی اور اس کی توبہ قبول کر لی۔“
مسند ابویعلیٰ: 3462، علامہ ہیثمی نے مجمع الزوائد میں ذکر کیا ہے کہ اس کی سند میں معاویہ بن یحییٰ صَدفی اور بقیہ بن ولید کی وجہ سے ضعف پایا جاتا ہے۔