❮
❯
حدیث نمبر: 3461
قَالَ إِسْحَاقُ : أَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، ثَنَا حَمَّادٌ هُوَ ابْنُ سَلَمَةَ ، أَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِفَاطِمَةَ : " إِنَّهُ لَمْ يُعَمَّرْ نَبِيٌّ قَطُّ إِلَّا عُمِّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَهُ نِصْفَ عُمُرِ صَاحِبِهِ ، وَعُمِّرَ عِيسَى أَرْبَعِينَ ، وَأَنَا عِشْرِينَ "
قُلْتُ : مَعْنَاهُ عُمِّرَ فِي النُّبُوَّةِ .
ترجمہ

سیدنا یحییٰ بن جعدہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”یقیناً ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کسی نبی کو عمر عطا کی گئی ہو مگر یہ کہ اس کے بعد آنے والے نبی کو اپنے پیشرو کی عمر کا نصف دیا گیا، اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو چالیس سال (کی مدت) دی گئی تھی جبکہ مجھے بیس سال (کی مدت) عطا کی گئی ہے۔“
میں کہتا ہوں: اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں نبوت و رسالت کی مدت کے سال مراد ہیں۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب أحاديث الأنبياء عليهم الصلاة والسلام / حدیث: 3461
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، مرسل
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :رجاله ثقات إلَّا أنه مرسل، يحيى لم يدرك العهد النبوي. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»