المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب أحاديث الأنبياء عليهم الصلاة والسلام— انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات و احادیث کا بیان۔
بَابُ أخبار موسى وهارون عليهما الصَّلَاةِ والسلام باب: حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما السلام کے واقعات کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : لَمَّا بَعَثَ اللهُ تَعَالَى مُوسَى عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ إِلَى فِرْعَوْنَ قَالَ : أَيَّ شَيْءٍ أَقُولُ ؟ قَالَ : قُلْ : أَهْيَا شَرْ أَهْيَا قَالَ الْأَعْمَشُ : فَفَسَّرُوهُ : " الْحَيُّ قَبْلَ كُلِّ شَيْءٍ ، وَالْحَيُّ بَعْدَ كُلِّ شَيْءٍ " .سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو فرعون کی طرف (رسالت دے کر) مبعوث فرمایا تو انہوں نے عرض کی: ”(اے پروردگار!) میں (فرعون سے) کیا کہوں؟“ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ”تم (اس سے) کہو: «أَهْيَا شَرُ أَهْيَا» “۔ امام اعمش رحمہ اللہ نے اس کلام کی تفسیر یوں بیان کی ہے: ”وہ ذات جو ہر شے کے وجود سے قبل بھی زندہ و جاوید تھی، اور ہر شے کے فنا ہو جانے کے بعد بھی زندہ و جاوید رہنے والی ہے۔“
تخریج و تحکیم: اس روایت کو امام اسحاق بن راہویہ نے اپنی مسند میں (حدیث: 1251) روایت کیا ہے، اس کی سند میں موجود راوی ابو عبیدہ بن عبداللہ بن مسعود کا اپنے والد سے سماع ثابت نہ ہونے کی بنا پر یہ سند منقطع ہے۔