❮
❯
حدیث نمبر: 3454
قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : لَمَّا بَعَثَ اللهُ تَعَالَى مُوسَى عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ إِلَى فِرْعَوْنَ قَالَ : أَيَّ شَيْءٍ أَقُولُ ؟ قَالَ : قُلْ : أَهْيَا شَرْ أَهْيَا قَالَ الْأَعْمَشُ : فَفَسَّرُوهُ : " الْحَيُّ قَبْلَ كُلِّ شَيْءٍ ، وَالْحَيُّ بَعْدَ كُلِّ شَيْءٍ " .
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو فرعون کی طرف (رسالت دے کر) مبعوث فرمایا تو انہوں نے عرض کی: ”(اے پروردگار!) میں (فرعون سے) کیا کہوں؟“ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ”تم (اس سے) کہو: «أَهْيَا شَرُ أَهْيَا» “۔ امام اعمش رحمہ اللہ نے اس کلام کی تفسیر یوں بیان کی ہے: ”وہ ذات جو ہر شے کے وجود سے قبل بھی زندہ و جاوید تھی، اور ہر شے کے فنا ہو جانے کے بعد بھی زندہ و جاوید رہنے والی ہے۔“
تخریج و تحکیم: اس روایت کو امام اسحاق بن راہویہ نے اپنی مسند میں (حدیث: 1251) روایت کیا ہے، اس کی سند میں موجود راوی ابو عبیدہ بن عبداللہ بن مسعود کا اپنے والد سے سماع ثابت نہ ہونے کی بنا پر یہ سند منقطع ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب أحاديث الأنبياء عليهم الصلاة والسلام / حدیث: 3454
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، منقطع
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :رجاله ثقات، إلا أنه منقطع بين أبي عبيدة وأبيه رضي الله عنهما. »
«أخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 30356»