❮
❯
حدیث نمبر: 3455
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، ثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ : لا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَى فَبَرَّأَهُ اللهُ قَالَ : صَعِدَ مُوسَى وَهَارُونُ الْجَبَلَ فَمَاتَ هَارُونُ ، فَقَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ : أَنْتَ قَتَلْتَهُ ! وَكَانَ أَشَدَّ حُبًّا لَنَا مِنْكَ ، وَأَلْيَنَ لَنَا مِنْكَ ، فَآذَوْهُ بِذَلِكَ ، فَأَمَرَ اللهُ تَعَالَى الْمَلَائِكَةَ فَحَمَلُوهُ حَتَّى مَرُّوا عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ ، فَتَكَلَّمَتِ الْمَلَائِكَةُ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ بِمَوْتِهِ حَتَّى عَرَفَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ أَنَّهُ قَدْ مَاتَ ، فَانْطَلَقُوا بِهِ فَدَفَنُوهُ ، فَلَمْ يَطَّلِعْ عَلَى قَبْرِهِ أَحَدٌ مِنْ خَلْقِ اللهِ تَعَالَى إِلَّا الرَّخَمُ ؛ فَجَعَلَهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ أَصَمَّ أَبْكَمَ
هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ .
ترجمہ

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَىٰ فَبَرَّأَهُ اللَّهُ﴾ [سورة الأحزاب: 69] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”سیدنا موسیٰ اور سیدنا ہارون علیہما السلام پہاڑ پر چڑھے تو سیدنا ہارون علیہ السلام کی وفات ہو گئی، جس پر بنی اسرائیل نے (سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے) کہا کہ ”تم نے انہیں قتل کر دیا ہے! حالانکہ وہ ہم سے تمہاری نسبت زیادہ محبت کرنے والے اور ہم پر زیادہ نرم دل تھے“، پس انہوں نے اس قول کے ذریعے انہیں تکلیف پہنچائی، تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا اور انہوں نے انہیں (سیدنا ہارون علیہ السلام کے جسدِ مبارک کو) اٹھا لیا یہاں تک کہ وہ بنی اسرائیل کے پاس سے گزرے اور فرشتوں نے ان کی موت کے متعلق کلام کیا یہاں تک کہ بنی اسرائیل کو یقین ہو گیا کہ وہ فوت ہو چکے ہیں، پھر وہ انہیں لے گئے اور دفن کر دیا، پس اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے گدھ کے سوا کسی کو بھی ان کی قبر کی جگہ کا پتہ نہ چلا، چنانچہ اللہ عزوجل نے اس (پرندے) کو «أَصَمَّ أَبْكَمَ» ”بہرا اور گونگا“ کر دیا۔“
یہ سند صحیح ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب أحاديث الأنبياء عليهم الصلاة والسلام / حدیث: 3455
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ . »
«أخرجه الأحاديث المختارة للضياء برقم: 611، وأخرجه المستدرك للحاكم برقم: 4132، وأخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 3685»