المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب أحاديث الأنبياء عليهم الصلاة والسلام— انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات و احادیث کا بیان۔
بَابُ خلق آدم عَلَيْهِ الصَّلَاةِ والسلام باب: حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ، ثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَافِعٍ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى خَلَقَ آدَمَ مِنْ تُرَابٍ ، ثُمَّ جَعَلَهُ طِينًا ، ثُمَّ تَرَكَهُ ، حَتَّى إِذَا كَانَ حَمَأً مَسْنُونًا خَلَقَهُ وَصَوَّرَهُ ، ثُمَّ تَرَكَهُ حَتَّى إِذَا كَانَ صَلْصَالًا كَالْفَخَّارِ كَانَ إِبْلِيسُ يَمُرُّ بِهِ فَيَقُولُ : لَقَدْ خُلِقْتَ لِأَمْرٍ عَظِيمٍ ! ثُمَّ نَفَخَ اللهُ تَعَالَى فِيهِ مِنْ رُوحِهِ ، فَكَانَ أَوَّلَ شَيْءٍ جَرَى فِيهِ الرُّوحُ بَصَرُهُ وَخَيَاشِيمُهُ ، فَعَطَسَ فَلَقَّنَهُ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى حَمْدَ رَبِّهِ ، فَقَالَ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ : يَرْحَمُكَ اللهُ رَبُّكَ ، ثُمَّ قَالَ اللهُ تَعَالَى : يَا آدَمُ ، اذْهَبْ إِلَى أُولَئِكَ النَّفَرِ فَقُلْ لَهُمْ ، فَانْظُرْ مَاذَا يَقُولُونَ . فَجَاءَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ ، فَقَالُوا : وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللهِ . فَجَاءَ إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ جَلَّ وَعَلَا : مَاذَا قَالُوا لَكَ - وَهُوَ أَعْلَمُ بِمَا قَالُوا ؟ قَالَ : يَا رَبِّ ، سَلَّمْتُ عَلَيْهِمْ فَقَالُوا : وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللهِ . قَالَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : يَا آدَمُ ، هَذِهِ تَحِيَّتُكَ وَتَحِيَّةُ ذُرِّيَّتِكَ . قَالَ : يَا رَبِّ ، وَمَا ذُرِّيَّتِي ؟ قَالَ جَلَّ وَعَلَا : اخْتَرْ إِحْدَى يَدَيَّ يَا آدَمُ . قَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ : اخْتَرْ يَمِينَ رَبِّي ، وَكِلْتَا يَدَيْ رَبِّي يَمِينٌ ، فَبَسَطَ اللهُ تَعَالَى كَفَّهُ ، فَإِذَا كُلَّمَا هُوَ كَائِنٌ فِي ذُرِّيَّتِهِ فِي كَفِّ الرَّحْمَنِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو مٹی سے پیدا کیا، پھر اسے گارا بنایا، پھر اسے (اسی حالت میں) چھوڑ دیا، یہاں تک کہ جب وہ ﴿حَمَإٍ مَّسْنُونٍ﴾ [سورة الحجر: 26] (سیاہ رنگ کا متغیر و بو دار گارا) بن گیا تو اللہ نے اس کی تخلیق فرمائی اور اس کی صورت گری کی، پھر اسے چھوڑ دیا یہاں تک کہ جب وہ ﴿صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِ﴾ [سورة الرحمن: 14] (ٹھیکرے کی طرح کھنکھناتی مٹی) کی طرح ہو گیا، تو ابلیس ان کے پاس سے گزرتا اور (تعجب سے) کہتا: یقیناً تو کسی بہت بڑے کام کے لیے پیدا کیا گیا ہے! پھر اللہ تعالیٰ نے ان میں اپنی روح پھونکی، تو سب سے پہلے جس جگہ روح رواں ہوئی وہ ان کی آنکھیں اور ان کے نتھنے تھے، پس انہیں چھینک آئی تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے انہیں اپنے رب کی حمد کرنے کی تلقین فرمائی، چنانچہ رب عز و جل نے فرمایا: «يَرْحَمُكَ اللهُ رَبُّكَ» ”تمہارا رب تم پر رحم فرمائے“، پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے آدم! ان لوگوں کی اس جماعت (فرشتوں) کے پاس جاؤ اور انہیں سلام کرو، پھر دیکھو کہ وہ تمہیں کیا جواب دیتے ہیں۔ پس وہ آئے اور انہیں سلام کیا، تو انہوں نے جواب میں کہا: «وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللهِ» ”اور آپ پر بھی سلامتی اور اللہ کی رحمت ہو“۔ پھر وہ اپنے رب عز و جل کی بارگاہ میں واپس آئے تو اللہ جل و علا نے دریافت فرمایا: انہوں نے تمہیں کیا جواب دیا؟ حالانکہ وہ ان کے جواب کو خوب جانتا تھا۔ آدم علیہ السلام نے عرض کیا: اے میرے رب! میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے جواب دیا: «وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللهِ» ”اور آپ پر بھی سلامتی اور اللہ کی رحمت ہو“۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: اے آدم! یہی تمہارا اور تمہاری ذریت (اولاد) کا باہمی سلام ہے۔ آدم علیہ السلام نے عرض کیا: اے میرے رب! اور میری ذریت کیا ہے؟ اللہ جل و علا نے فرمایا: اے آدم! میرے دونوں ہاتھوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرو۔ انہوں نے عرض کیا: میں نے اپنے رب کے داہنے ہاتھ کا انتخاب کیا، اور میرے رب کے دونوں ہی ہاتھ داہنے (مبارک و بابرکت اور کامل) ہیں، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی ہتھیلی کو پھیلا دیا، تو اچانک کیا دیکھتے ہیں کہ ان کی ذریت میں جو کچھ بھی ہونے والا ہے (یعنی قیامت تک پیدا ہونے والے تمام انسان) وہ سب کے سب رحمٰن تبارک و تعالیٰ کی ہتھیلی میں موجود ہیں۔“
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں اسماعیل بن رافع ضعیف ہے لیکن اس کے شواہد کی بنا پر اس کا اصل مفہوم دیگر صحیح احادیث میں ثابت ہے۔