المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب أحاديث الأنبياء عليهم الصلاة والسلام— انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات و احادیث کا بیان۔
بَابُ حياة الأنبياء عَلَيْهِمْ الصَّلَاةِ والسلام باب: انبیاء علیہم السلام کی حیات کا بیان۔
عَلَيْهِمُ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو الْجَهْمِ الْأَزْرَقُ بْنُ عَلِيٍّ ، ثَنَا يَحْيَى ابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ .
3446 \ 2 - وَقَالَ الْبَزَّارُ : حَدَّثَنَا رِزْقُ اللهِ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ قُتَيْبَةَ قَالَا : ثَنَا الْمُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْأَنْبِيَاءُ أَحْيَاءٌ فِي قُبُورِهِمْ يُصَلُّونَ "
قَالَ الْبَزَّارُ : لَا نَعْلَمُ رَوَاهُ عَنْ ثَابِتٍ إِلَّا حَجَّاجٌ ، وَلَا عَنْ حَجَّاجٍ إِلَّا الْمُسْتَلِمُ ، وَلَا رَوَى الْحَجَّاجُ عَنْ ثَابِتٍ إِلَّا هَذَا .
3446 \ 3 - وَأَخْرَجَهُ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَرَّانِيِّ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
وَقَالَ : لَا نَعْلَمُ أَحَدًا تَابَعَ الْحَسَنَ بْنَ قُتَيْبَةَ فِي رِوَايَتِهِ إِيَّاهُ عَنْ حَمَّادٍ .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”انبیاءِ کرام علیہم السلام اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور وہ وہاں نماز پڑھتے (یعنی عبادت میں مشغول رہتے) ہیں۔“
امام ابویعلیٰ نے اسے ابوالجہم الازرق بن علی، یحییٰ بن ابی بکیر سے روایت کیا ہے، جبکہ امام بزار نے اسے رزق اللہ بن موسیٰ سے، انہوں نے حسن بن قتیبہ سے روایت کیا، ان دونوں نے مستلم بن سعید سے، انہوں نے حجاج بن اسود سے، انہوں نے ثابت بنانی سے اور انہوں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے۔
امام بزار نے مزید کہا کہ ہمارے علم کے مطابق اسے ثابت سے حجاج کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کیا، اور حجاج سے اسے صرف مستلم نے نقل کیا ہے، نیز حجاج کی ثابت سے اس کے علاوہ کوئی اور روایت نہیں ہے۔
امام بزار نے اس حدیث کی ایک اور سند بھی ذکر کی ہے جس میں وہ محمد سے، وہ عبدالرحمن الحرانی سے، وہ حسن بن قتیبہ سے، وہ حماد سے، وہ عبدالعزیز سے اور وہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔
امام بزار نے فرمایا کہ ہمیں معلوم نہیں کہ حماد سے حسن بن قتیبہ کی اس روایت میں کسی اور نے ان کی پیروی (متابعت) کی ہو۔