المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب أحاديث الأنبياء عليهم الصلاة والسلام— انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات و احادیث کا بیان۔
بَابُ آدم وعدد الأنبياء عَلَيْهِمْ الصَّلَاةِ والسلام باب: حضرت آدم علیہ السلام اور انبیاء علیہم السلام کی تعداد کا بیان۔
حدیث نمبر: 3445
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْعَبْدِيُّ ، ثَنَا مَعْبَدُ بْنُ خَالِدٍ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " كَانَ مِمَّنْ خَلَا مِنْ إِخْوَانِي مِنَ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ ثَمَانِيَةُ آلَافِ نَبِيٍّ ، ثُمَّ كَانَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِمَا الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ ، ثُمَّ كُنْتُ أَنَا " .ترجمہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”مجھ سے پہلے گزرنے والے میرے بھائیوں یعنی انبیاءِ کرام علیہم السلام کی مجموعی تعداد آٹھ ہزار تھی، پھر ان کے بعد عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام مبعوث ہوئے اور پھر (سلسلہِ نبوت کی تکمیل کے لیے) میں تشریف لایا۔“
اس حدیث کی سند میں یزید بن ابان الرقاشی نامی راوی موجود ہیں جو کہ ائمہ حدیث کے نزدیک ضعیف (کمزور) قرار دیے گئے ہیں، تخریج: مسند ابو یعلیٰ: 3445۔