المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب أحاديث الأنبياء عليهم الصلاة والسلام— انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات و احادیث کا بیان۔
بَابُ آدم وعدد الأنبياء عَلَيْهِمْ الصَّلَاةِ والسلام باب: حضرت آدم علیہ السلام اور انبیاء علیہم السلام کی تعداد کا بیان۔
حدیث نمبر: 3444
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْجَوْهَرِيُّ ، ثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَعَثَ اللهُ ثَمَانِيَةَ آلَافِ نَبِيٍّ ؛ إِلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ أَرْبَعَةَ آلَافٍ ، وَأَرْبَعَةَ آلَافٍ إِلَى سَائِرِ النَّاسِ " .ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تبارک و تعالیٰ نے کل آٹھ ہزار انبیاء مبعوث فرمائے؛ جن میں سے چار ہزار خاص طور پر بنی اسرائیل کی طرف بھیجے گئے، جبکہ بقیہ چار ہزار انبیاء کرام علیہم السلام دنیا کے دیگر تمام انسانوں کی رشد و ہدایت کے لیے مبعوث کیے گئے“۔
مسند ابویعلیٰ کی اس روایت کی سند میں یزید بن ابان الرقاشی اور موسیٰ بن عبیدہ الربذی دونوں راوی ضعیف ہیں، جس کی بنا پر یہ حدیث سندی طور پر ضعیف اور معلول ہے۔