المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب أحاديث الأنبياء عليهم الصلاة والسلام— انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات و احادیث کا بیان۔
باب (حديث 3441) باب: (حدیث 3441)
عَلَيْهِمُ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ
قَالَ مُحَمَّدُ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، ثَنَا أَبُو رَافِعٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ ، عَمَّنْ أَخْبَرَهُ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا وَحْدَهُ فَقُمْتُ أَنْظُرُ إِلَيْهِ وَهُوَ لَا يَرَانِي وَأَقُولُ مَا خَلَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَكَذَا وَحْدَهُ إِلَّا وَهُوَ عَلَى حَاجَةٍ أَوْ عَلَى وَحْيٍ ، فَجَعَلْتُ أُؤَامِرُ نَفْسِي أَنْ آتِيَهُ ، فَأَبَتْ نَفْسِي إِلَّا أَنْ آتِيَهُ ، فَجِئْتُ فَسَلَّمْتُ ثُمَّ جَلَسْتُ ، فَجَلَسْتُ طَوِيلًا لَا يَلْتَفِتُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ وَلَا يُكَلِّمُنِي ، قَالَ : قُلْتُ : قَدْ كَرِهَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُجَالَسَتِي ، ثُمَّ الْتَفَتَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ فَقَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ " ، فَقُلْتُ : لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ . قَالَ : " أَرَكَعْتَ الْيَوْمَ ؟ " قُلْتُ : لَا ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُمْ فَارْكَعْ " ، فَقُمْتُ فَرَكَعْتُ مَا شَاءَ اللهُ تَعَالَى ، ثُمَّ عُدْتُ فَجَلَسْتُ ، فَمَكَثَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَوِيلًا لَا يُكَلِّمُنِي ، فَقُلْتُ : قَدْ كَرِهَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُجَالَسَتِي ثُمَّ الْتَفَتَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ فَقَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ " ، قُلْتُ : لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ . قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اسْتَعِذْ بِاللهِ مِنْ شَرِّ شَيَاطِينِ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ " ، فَقُلْتُ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، وَلِلْإِنْسِ شَيَاطِينُ ؟
قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَيْسَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ شَيَاطِينَ الإِنْسِ وَالْجِنِّ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ الْآيَةَ .
ثُمَّ الْتَفَتَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ فَقَالَ : يَا أَبَا ذَرٍّ ، قُلْتُ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَةً هِيَ كَنْزٌ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ ؟ " قُلْتُ : بَلَى ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قُلْ : لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ " ثُمَّ أَصَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَتَكَلَّمُ حَتَّى طَالَ ذَلِكَ مِنْهُ ، فَأْتَنَفْتُ الْحَدِيثَ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنَّكَ أَمَرْتَنِي بِالصَّلَاةِ ، فَمَا الصَّلَاةُ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خَيْرٌ مَوْضُوعٌ ، فَمَنْ شَاءَ اسْتَقَلَّ ، وَمَنْ شَاءَ اسْتَكْثَرَ . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، فَمَا الصِّيَامُ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَرْضٌ مُجْزِئٌ . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، فَمَا الصَّدَقَةُ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَضْعَافٌ مُضَاعَفَةٌ ، وَعِنْدَ اللهِ الْمَزِيدُ . " قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، فَأَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِيمَانٌ بِاللهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللهِ تَعَالَى " قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، فَأَيُّ الشُّهَدَاءِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ أُهَرِيقَ دَمُهُ ، وَعُقِرَ جَوَادُهُ " قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، فَأَيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَغْلَاهَا ثَمَنًا ، وَأَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا .
قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : جُهْدٌ مِنْ مُقِلٍّ ، وَسِرٌّ إِلَى فَقِيرٍ " قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، فَإِنْ لَمْ أَجِدْ مَا أَتَصَدَّقُ بِهِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تُعِينُ ضَعِيفًا ، أَوْ تَصْنَعُ لِأَخْرَقَ . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، فَإِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَتَكُفُّ هَذَا - وَأَشَارَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى لِسَانِهِ - فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ حَسَنَةٌ يَتَصَدَّقُ بِهَا الْمَرْءُ عَلَى نَفْسِهِ . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَيُّمَا أُنْزِلَ عَلَيْكَ مِنَ الْقُرْآنِ أَعْظَمُ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : آيَةُ الْكُرْسِيِّ ، وَتَدْرِي مَا مَثَلُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ فِي الْكُرْسِيِّ ؟ قُلْتُ : لَا ، إِلَّا أَنْ تُعَلِّمَنِي مِمَّا عَلَّمَكَ اللهُ تَعَالَى ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَثَلُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ فِي الْكُرْسِيِّ إِلَّا كَحَلْقَةٍ مُلْقَاةٍ فِي فَلَاةٍ ، وَإِنَّ فَضْلَ الْكُرْسِيِّ عَلَى السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ كَفَضْلِ الْفَلَاةِ عَلَى تِلْكَ الْحَلْقَةِ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، كَمْ كَانَ الْأَنْبِيَاءُ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانُوا مِائَةَ أَلْفٍ وَأَرْبَعَةً وَعِشْرِينَ أَلْفًا " قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، وَكُلُّهُمْ كَانُوا رُسُلًا ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا ، كَانَ الرُّسُلُ مِنْهُمْ خَمْسَةَ عَشَرَ وَثَلَاثَمِائَةِ رَجُلٍ " قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، فَأَيُّهُمْ كَانَ أَوَّلَ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ " قُلْتُ : وَنَبِيٌّ كَانَ آدَمُ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَعَمْ ، جَبَلَ اللهُ تُرْبَتَهُ ، وَخَلَقَهُ بِيَدِهِ ، وَنَفَخَ فِيهِ مِنْ رُوحِهِ ، وَكَلَّمَهُ قُبُلًا ثُمَّ كَثُرَ النَّاسُ حَوْلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَبْخَلِ النَّاسِ ؟ " قُلْتُ : بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ ذُكِرْتُ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ تنہا تشریف فرما ہیں، میں کھڑا ہو کر آپ ﷺ کی طرف دیکھنے لگا جبکہ آپ ﷺ نے مجھے نہیں دیکھا، میں دل میں کہنے لگا کہ رسول اللہ ﷺ اس طرح تنہا تبھی بیٹھتے ہیں جب آپ ﷺ کو کوئی خاص ضرورت ہو یا وحی نازل ہو رہی ہو۔ پھر میں نے اپنے دل میں بار بار ارادہ کیا کہ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوں اور میرا جی یہی چاہتا رہا کہ میں آپ ﷺ کے پاس جاؤں، چنانچہ میں حاضر ہوا، سلام کیا اور بیٹھ گیا۔ میں کافی دیر تک بیٹھا رہا لیکن نبی کریم ﷺ نے نہ میری طرف توجہ فرمائی اور نہ ہی مجھ سے کلام کیا، میں نے (دل میں) کہا کہ شاید رسول اللہ ﷺ کو میرا بیٹھنا ناگوار گزرا ہے۔ پھر آپ ﷺ میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”اے ابوذر!“ میں نے عرض کیا: میں حاضر ہوں اور آپ کی خدمت کے لیے تیار ہوں۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کیا تم نے آج نماز پڑھی ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اٹھو اور نماز پڑھو۔“ چنانچہ میں اٹھا اور جتنا اللہ نے چاہا میں نے نماز پڑھی، پھر واپس آکر بیٹھ گیا۔ آپ ﷺ کافی دیر تک خاموش رہے اور مجھ سے گفتگو نہیں کی، میں نے (پھر دل میں) کہا کہ شاید رسول اللہ ﷺ کو میرا بیٹھنا پسند نہیں آیا، پھر آپ ﷺ میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”اے ابوذر!“ میں نے عرض کیا: میں حاضر ہوں اور آپ کی خدمت کے لیے تیار ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی پناہ مانگو انسانوں اور جنوں کے شیطانوں کے شر سے۔“ میں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، کیا انسانوں میں بھی شیطان ہوتے ہیں؟
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، کیا اللہ عزوجل کا یہ فرمان نہیں ہے: ﴿شَيَاطِينَ الإِنْسِ وَالْجِنِّ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا﴾ [سورة الأنعام: 112] (یعنی انسانوں اور جنوں کے شیطان جو دھوکہ دینے کے لیے ایک دوسرے کے دل میں ملمع سازی کی باتیں ڈالتے ہیں)۔“ پھر آپ ﷺ میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”اے ابوذر!“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں وہ کلمہ نہ سکھاؤں جو جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے؟“ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! آپ ﷺ نے فرمایا: ”کہو: «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ» ”اللہ کی مدد کے بغیر نہ (گناہوں سے بچنے کی) کوئی طاقت ہے اور نہ (نیکی کرنے کی) کوئی ہمت“۔“ پھر رسول اللہ ﷺ خاموش رہے یہاں تک کہ طویل وقت گزر گیا، چنانچہ میں نے بات شروع کرتے ہوئے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے مجھے نماز کا حکم دیا، تو نماز کی حقیقت کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ایک بہترین فریضہ ہے، اب جس کا جی چاہے اسے کم پڑھے اور جس کا جی چاہے کثرت سے پڑھے۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! روزے کے بارے میں کیا ارشاد ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ایک فریضہ ہے جو (گناہوں کے بدلے) کافی ہو جاتا ہے۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! صدقہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کئی گنا بڑھا چڑھا کر دیا جاتا ہے اور اللہ کے ہاں اس سے بھی زیادہ اجر موجود ہے۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل پر ایمان لانا اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنا۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کون سا شہید سب سے افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ جس کا خون بہا دیا جائے اور اس کا گھوڑا بھی زخمی کر کے مار دیا جائے۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کون سا غلام آزاد کرنا سب سے افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو قیمت میں سب سے مہنگا ہو اور اپنے مالکوں کے ہاں سب سے زیادہ قیمتی ہو۔“
میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کون سا صدقہ سب سے افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کم مال والے کی محنت کی کمائی سے دیا گیا صدقہ اور کسی فقیر کو پوشیدہ طور پر دینا۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اگر میرے پاس صدقہ کرنے کو کچھ نہ ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم کسی کمزور کی مدد کر دیا کرو یا کسی نابلد و اناڑی کا کام کر دیا کرو۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اگر میں یہ بھی نہ کر سکوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر اسے روک کر رکھو - اور آپ ﷺ نے اپنی زبان کی طرف اشارہ کیا - کیونکہ یہ بھی ایک بہترین صدقہ ہے جو انسان خود اپنے نفس پر کرتا ہے۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ پر قرآن کی کون سی آیت سب سے عظیم نازل ہوئی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آیت الکرسی؛ اور کیا تم جانتے ہو کہ کرسی کے مقابلے میں آسمانوں اور زمین کی مثال کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: نہیں، مگر یہ کہ آپ مجھے وہ سکھا دیں جو اللہ نے آپ کو سکھایا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کرسی کے مقابلے میں آسمانوں اور زمین کی مثال ایسے ہے جیسے کسی چٹیل میدان میں ایک چھلا پھینک دیا گیا ہو، اور کرسی کی فضیلت آسمانوں و زمین پر ایسی ہی ہے جیسے اس میدان کی فضیلت اس چھلے پر ہے۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! انبیاء کرام علیہم السلام کی کل تعداد کتنی تھی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ ایک لاکھ چوبیس ہزار تھے۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا وہ سب رسول تھے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ ان میں سے رسولوں کی تعداد تین سو پندرہ تھی۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ان میں سب سے پہلے کون تھے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سیدنا آدم علیہ السلام۔“ میں نے عرض کیا: کیا آدم علیہ السلام نبی تھے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، اللہ نے ان کی مٹی تیار کی، انہیں اپنے دستِ قدرت سے پیدا فرمایا، ان میں اپنی روح پھونکی اور ان سے براہِ راست کلام فرمایا۔“ پھر رسول اللہ ﷺ کے ارد گرد لوگوں کا ہجوم ہو گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں سب سے زیادہ بخیل شخص کے بارے میں نہ بتاؤں؟“ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ شخص جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ پڑھے۔“
امام محمد بن ابی عمر کہتے ہیں کہ ہمیں ہشام بن سلیمان نے حدیث بیان کی، انہیں ابو رافع نے، انہوں نے یزید بن رومان کے واسطے سے اور انہوں نے ایک غیر معروف راوی سے، جنہوں نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے یہ روایت بیان کی۔