المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب أحاديث الأنبياء عليهم الصلاة والسلام— انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات و احادیث کا بیان۔
بَابُ آدم وعدد الأنبياء عَلَيْهِمْ الصَّلَاةِ والسلام باب: حضرت آدم علیہ السلام اور انبیاء علیہم السلام کی تعداد کا بیان۔
عَلَيْهِمُ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، أَنَا حَمَّادٌ هُوَ ابْنُ سَلَمَةَ ، أَنَا مَعْبَدٌ ، أَخْبَرَنِي فُلَانٌ فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ أَبَا ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، جَلَسَ إِلَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثٍ قَبْلَهُ فِيهِ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، فَأَيُّ الْأَنْبِيَاءِ كَانَ أَوَّلَ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " آدَمُ " فَقُلْتُ : أَوَنَبِيًّا كَانَ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَعَمْ ، نَبِيٌّ مُكَلَّمٌ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، فَكَمِ الْأَنْبِيَاءُ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلَاثُمِائَةٍ وَخَمْسَ عَشْرَةَ جَمًّا غَفِيرًا .سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی مجلسِ مبارک میں حاضر ہو کر بیٹھ گئے، پھر انہوں نے سابقہ حدیث کی طرح تذکرہ کیا جس میں ہے کہ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! انبیاء میں سب سے اول کون تھے؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”آدم علیہ السلام۔“ میں نے عرض کیا: ”کیا وہ باقاعدہ نبی تھے؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ہاں، وہ ایسے نبی تھے جن سے اللہ تعالیٰ نے کلام فرمایا تھا۔“ میں نے دریافت کیا: ”اے اللہ کے رسول! انبیاء کی کل تعداد کتنی تھی؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تین سو پندرہ، جو کہ ایک بڑی اور کثیر جماعت ہے۔“
امام اسحاق بن راہویہ نے کہا کہ ہمیں نضر بن شمیل نے خبر دی، انہیں حماد بن سلمہ نے خبر دی، انہیں معبد نے بتایا اور انہیں دمشق کی مسجد میں ایک صاحب نے عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کے واسطے سے یہ روایت بیان کی، جو کہ سابقہ حدیث کی مانند ہے۔