المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب بدء الخلق— تخلیقِ کائنات کے آغاز کا بیان۔
بَابُ الأرواح باب: ارواح کا بیان۔
حدیث نمبر: 3435
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : " الْأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا ائْتَلَفَ ، وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا اخْتَلَفَ " .
مَوْقُوفٌ صَحِيحٌ .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”الْأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا ائْتَلَفَ ، وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا اخْتَلَفَ“ ”ارواح (انسانی روحیں) مجتمع کیے گئے لشکروں کی مانند ہیں، چنانچہ ان میں سے جن کے درمیان (عالمِ ارواح میں) شناسائی ہوئی وہ (دنیا میں بھی) باہم الفت و یگانگت پیدا کر لیتی ہیں، اور جن کے درمیان وہاں اجنبیت رہی وہ (دنیا میں بھی) باہم اختلاف و عدمِ مطابقت کا شکار رہتی ہیں۔“
موقوف صحیح ہے۔