المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب بدء الخلق— تخلیقِ کائنات کے آغاز کا بیان۔
بَابُ خلق الأرض باب: زمین کی تخلیق کا بیان۔
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قُلْتُ لِكَعْبٍ : مَا يُمْسِكُ هَذِهِ الْأَرْضَ الَّتِي نَحْنُ عَلَيْهَا ؟ قَالَ : أَمْرُ اللهِ تَعَالَى . قَالَ : قُلْتُ : قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ أَمْرَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ الَّذِي يُمْسِكُهَا ، فَمَا أَمْرُ اللهِ ذَلِكَ ؟ قَالَ : شَجَرَةٌ خَضْرَاءُ فِي يَدِ مَلَكٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ قَائِمٌ عَلَى ظَهْرِ الْحُوتِ مُنْطَوٍ ، وَالسَّمَاوَاتُ مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ . قُلْتُ : فَمَا سَاكِنُ الْأَرْضِ الثَّانِيَةِ ؟ قَالَ : الرِّيحُ الْعَقِيمُ ، لَمَّا أَرَادَ أَنْ يُهْلِكَ عَادًا أَوْحَى إِلَى خَزَنَتِهَا أَنِ افْتَحُوا مِنْهَا بَابًا . قَالُوا : رَبَّنَا ، مِثْلَ مَنْخِرِ الثَّوْرِ ؟ قَالَ : إِذًا تَلْقَى الْأَرْضَ وَمَنْ عَلَيْهَا قَالَ : فَجُعِلَ مِثْلُ مَوْضِعِ الْخَاتَمِ . قَالَ : قُلْتُ : فَمَنْ سَاكِنُ الْأَرْضِ الثَّالِثَةِ ؟ قَالَ : حِجَارَةُ جَهَنَّمَ . قَالَ : قُلْتُ : فَمَنْ سَاكِنُ الْأَرْضِ الرَّابِعَةِ ؟ قَالَ : كِبْرِيتُ جَهَنَّمَ . قُلْتُ : وَإِنَّ لَهَا لَكِبْرِيتًا ؟ قَالَ : أَيْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، وَبِحَارٌ لَوْ طُرِحَتْ فِيهَا الْجِبَالُ لَتَفَتَّتَتْ مِنْ حَرِّهَا . قَالَ : فَقُلْتُ : مَنْ سَاكِنُ الْأَرْضِ الْخَامِسَةِ ؟ قَالَ : حَيَّاتُ جَهَنَّمَ . قُلْتُ : وَإِنَّ لَهَا لِحَيَّاتٍ ؟ قَالَ : إِي وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، أَمْثَالَ الْأَوْدِيَةِ . قُلْتُ : فَمَنْ سَاكِنُ الْأَرْضِ السَّادِسَةِ ؟ قَالَ : عَقَارِبُ جَهَنَّمَ . قُلْتُ : وَإِنَّ لَهَا لِعَقَارِبَ ؟ قَالَ : إِي وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، أَمْثَالَ الْفَلَكِ ، وَإِنَّ لَهَا أَذْنَابًا مِثْلَ الرِّمَاحِ ، وَإِنَّ إِحْدَاهُنَّ لَتَلْقَى الْكَافِرَ فَتَلْسَعُهُ اللَّسْعَةَ فَيَتَنَاثَرُ لَحْمُهُ عَلَى قَدَمَيْهِ . قَالَ : قُلْتُ : فَمَا سَاكِنُ الْأَرْضِ السَّابِعَةِ ؟ قَالَ : تِلْكَ سِجِّينٌ ، فِيهَا إِبْلِيسُ مُوثَقٌ ، اسْتَعْدَتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ ، فَحَبَسَهُ اللهُ تَعَالَى فِيهَا ، يَدًا أَمَامَهُ وَيَدًا خَلْفَهُ ، وَرِجْلًا أَمَامَهُ ، وَرِجْلًا خَلْفَهُ ، وَتَأْتِيهِ جُنُودُهُ بِالْأَخْبَارِ ، وَلَهُ زَمَانٌ يُرْسَلُ فِيهِ .سیدنا عطا بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کعب الاحبار سے دریافت کیا: ”اس زمین کو جس پر ہم مقیم ہیں، کس شے نے تھام رکھا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”اللہ تعالیٰ کے حکم نے۔“ میں نے عرض کیا: ”میں جانتا ہوں کہ اسے اللہ عزوجل کے حکم ہی نے تھام رکھا ہے، مگر (ظاہری سبب کے طور پر) وہ حکم کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”ایک سرسبز درخت ہے جو فرشتوں میں سے ایک فرشتے کے ہاتھ میں ہے، وہ فرشتہ ایک مڑی ہوئی عظیم الجثہ مچھلی کی پشت پر ایستادہ ہے، اور تمام آسمان عرشِ الٰہی کے نیچے ہیں۔“ میں نے پوچھا: ”دوسری زمین میں کون بستا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”وہاں ’الریح العقیم‘ (تباہ کن بانجھ ہوا) ہے؛ جب اللہ تعالیٰ نے قومِ عاد کو ہلاک کرنے کا ارادہ فرمایا تو اس ہوا کے نگہبان فرشتوں کو وحی فرمائی کہ اس کا ایک دروازہ کھول دو۔ انہوں نے عرض کیا: اے ہمارے رب! کیا بیل کے نتھنے کے برابر سوراخ کھولیں؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اگر اتنا کھول دیا تو یہ زمین اور جو کچھ اس پر ہے، سب کو الٹ پلٹ کر رکھ دے گی۔ چنانچہ اسے صرف ایک انگوٹھی کے حلقے جتنا کھولا گیا۔“ میں نے پوچھا: ”تیسری زمین کے باسی کون ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”جہنم کے پتھر۔“ میں نے پوچھا: ”چوتھی زمین میں کون رہتا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”جہنم کی گندھک۔“ میں نے عرض کیا: ”کیا وہاں واقعی گندھک ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”ہاں! اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، اور وہاں (تپش کے) ایسے سمندر ہیں کہ اگر ان میں پہاڑ بھی ڈال دیے جائیں تو وہ اس کی حدت سے پگھل کر ریزہ ریزہ ہو جائیں۔“ میں نے دریافت کیا: ”پانچویں زمین کے باسی کون ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”جہنم کے سانپ۔“ میں نے پوچھا: ”کیا وہاں واقعی سانپ ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں! اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، وہ وادیوں کی مانند طویل و عریض ہیں۔“ میں نے پوچھا: ”چھٹی زمین کے باسی کون ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”جہنم کے بچھو۔“ میں نے عرض کیا: ”کیا وہاں واقعی بچھو ہیں؟“ انہوں نے جواب دیا: ”ہاں! اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، وہ بڑے بحری جہازوں کی مانند ہیں، ان کی دمیں نیزوں جیسی ہیں، ان میں سے ایک بچھو جب کسی کافر کو ڈستا ہے تو اس کا گوشت ہڈیوں سے جھڑ کر اس کے قدموں میں گر جاتا ہے۔“ میں نے دریافت کیا: ”ساتویں زمین کے باسی کون ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”وہ مقام ’سجین‘ ہے، اس میں ابلیس بیڑیوں میں جکڑا ہوا ہے، فرشتوں نے اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگی تو اللہ تعالیٰ نے اسے وہاں قید کر دیا؛ اس کا ایک ہاتھ آگے اور ایک پیچھے، اور ایک پاؤں آگے اور ایک پیچھے بندھا ہوا ہے، اس کے چیلے چانٹے اسے خبریں پہنچاتے ہیں اور اس کا ایک مقررہ وقت ہے جس میں اسے چھوڑا جائے گا۔“
بغية الباحث عن زوائد مسند الحارث: 3434، اس کی سند میں اسماعیل بن عیاش حجازیوں سے روایت میں ضعیف ہیں، اور یہ اسرائیلیات میں سے ہے۔