المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب بدء الخلق— تخلیقِ کائنات کے آغاز کا بیان۔
بَابُ الزَّجْرِ عَنْ الدُّعَاءِ بالبلاء لِمَنْ لَا يطيقه باب: ناقابلِ برداشت آزمائش کی دعا مانگنے کی ممانعت کا بیان۔
( 136 ) تَقَدَّمَ فِي بَابِ فَضْلِ الْعِيَادَةِ مِنْ كِتَابِ الطِّبِّ حَدِيثُ كَثِيرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا فَقَدَ الرَّجُلَ مِنْ إِخْوَانِهِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ سَأَلَ عَنْهُ إِلَخْ .(136) پیچھے «کتاب الطب» کے «باب فضل العيادة» (عیادت کی فضیلت کا بیان) میں کثیر کی انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث گزر چکی ہے، وہ بیان کرتے ہیں: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بھائیوں (صحابہ) میں سے کسی شخص کو تین دن نہ پاتے (غیر حاضر دیکھتے) تو اس کے بارے میں دریافت فرماتے“ (الخ)۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ يَزِيدَ ابْنِ جُعْدُبَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِخْرَاقٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللهَ تَعَالَى خَلَقَ فِي الْجَنَّةِ رِيحًا بَعْدَ الرِّيحِ بِسَبْعِ سِنِينَ مِنْ دُونِهَا بَابٌ مُغْلَقٌ ، وَإِنَّمَا تَأْتِيكُمُ الرِّيحُ مِنْ خَلَلِ ذَلِكَ الْبَابِ ، وَلَوْ فُتِحَ ذَلِكَ الْبَابُ لَأَذْرَتْ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَهِيَ عِنْدَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ الْأَزْيَبُ ، وَعِنْدَكُمُ الْجَنُوبُ . "
3429 \ 2 - وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، بِهِ .
قُلْتُ : وَيَزِيدُ بْنُ ( جُعْدُبَةَ ) هُوَ ابْنُ عِيَاضٍ ؛ مَتْرُوكٌ .سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ نے جنت میں ایک ایسی ہوا پیدا فرمائی ہے جو (دیگر ہواؤں کی تخلیق کے) سات سال بعد وجود میں آئی، اس کے سامنے ایک بند دروازہ ہے، اور تمہیں جو ہوا پہنچتی ہے وہ محض اس بند دروازے کے شگافوں سے نکل کر آتی ہے، اگر وہ دروازہ (مکمل) کھول دیا جائے تو وہ آسمان و زمین کے درمیان کی ہر چیز کو اڑا کر رکھ دے؛ اللہ عزوجل کے نزدیک اس ہوا کا نام ’الازیب‘ ہے اور تمہارے ہاں اسے ’الجنوب‘ (جنوبی ہوا) کہا جاتا ہے۔“
امام ابوبکر بن ابی شیبہ نے بھی سفیان بن عیینہ کے واسطے سے یہی روایت بیان کی ہے۔ میں (ابن حجر) کہتا ہوں کہ اس سند میں موجود راوی یزید بن جعدبہ دراصل یزید بن عیاض ہے اور وہ متروک الحدیث (ناقابلِ اعتبار) ہے۔