المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب بدء الخلق— تخلیقِ کائنات کے آغاز کا بیان۔
باب (أحاديث 3429–3432) باب: (احادیث 3429 تا 3432)
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي نَصْرٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا بَيْنَ السَّمَاءِ الدُّنْيَا إِلَى الْأَرْضِ مَسِيرَةُ خَمْسِمِائَةِ سَنَةٍ ، وَغِلَظُ كُلٍّ مِنْهُمَا مَسِيرَةُ خَمْسِمِائَةِ سَنَةٍ ، وَمَا بَيْنَ كُلِّ سَمَاءٍ إِلَى الَّتِي تَلِيهَا مَسِيرَةُ خَمْسِمِائَةِ سَنَةٍ ، إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ ، وَالْأَرَضُونَ مِثْلُ ذَلِكَ ، وَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ السَّابِعَةِ إِلَى الْعَرْشِ مِثْلُ جَمِيعِ ذَلِكَ " .سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نچلے آسمان سے لے کر زمین تک کا درمیانی فاصلہ پانچ سو سال کی مسافت پر محیط ہے، اور ان میں سے ہر ایک (آسمان و زمین) کی اپنی موٹائی بھی پانچ سو سال کی مسافت کے برابر ہے، اسی طرح ہر آسمان سے لے کر اس کے متصل اگلے آسمان تک کا درمیانی فاصلہ پانچ سو سال کی راہ ہے، یہاں تک کہ ساتویں آسمان تک یہی ترتیب ہے، اور تمام زمینوں کی وسعت و موٹائی بھی اسی کے مانند ہے، جبکہ ساتویں آسمان سے لے کر عرشِ الٰہی تک کی دوری ان تمام مذکورہ مسافتوں کے مجموعی فاصلے کے برابر ہے۔“
اس حدیث کو امام اسحاق بن راہویہ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، تاہم اس کی سند میں اعمش کا عنعنہ اور راوی ابو نصر کے حالاتِ زندگی نامعلوم ہونے کی وجہ سے یہ روایت ضعیف قرار دی جاتی ہے، اگرچہ اس موضوع پر دیگر کتبِ حدیث میں شواہد موجود ہیں۔