المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ لَا حول ولا قوة إِلَّا بالله باب: «لا حول ولا قوة إلا بالله» کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3428
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ وَاقِدٍ ، ثَنَا حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْإِفْرِيقِيُّ ، ثَنَا حَكِيمُ بْنُ نَافِعٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : سُئِلَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ مِنْ كُنُوزِ الْعَرْشِ " .ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے (اس وظیفے کے بارے میں) دریافت کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کلمہ «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ» جس کا مفہوم یہ ہے کہ ”اللہ کی مشیت و توفیق کے بغیر نہ گناہوں سے پھرنے کی کوئی تدبیر ہے اور نہ نیکی کرنے کی کوئی قوت“، یہ عرشِ الہٰی کے انمول خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔“
امام بوصیری نے اس روایت کی سند کو ضعیف قرار دیا ہے کیونکہ اس میں حفص بن عبداللہ الافریقی نامی راوی موجود ہے جو کہ ضعیف الحفظ ہے۔