المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ لَا حول ولا قوة إِلَّا بالله باب: «لا حول ولا قوة إلا بالله» کی فضیلت کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا هُذَيْلٌ ، ثَنَا صَالِحُ بْنُ بَيَانٍ السَّاحِلِيُّ ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَقُلْتُ : لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ . قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ تَدْرِي مَا تَفْسِيرُهَا ؟ " قُلْتُ : اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا حَوْلَ عَنْ مَعْصِيَةِ اللهِ إِلَّا بِعِصْمَةِ اللهِ ، وَلَا قُوَّةَ عَلَى طَاعَةِ اللهِ إِلَّا بِقُوَّةِ اللهِ ، هَكَذَا أَخْبَرَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ .سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں ایک روز نبی کریم ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں حاضر تھا تو میں نے «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ» ”اللہ کی مدد کے بغیر نہ گناہوں سے بچنے کی کوئی تدبیر ہے اور نہ نیکی کرنے کی کوئی طاقت ہے“ پڑھا، تو آپ ﷺ نے مجھ سے دریافت فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ اس کلمے کی تفسیر و تشریح کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اللہ کی معصیت و نافرمانی سے باز رہنے کی کوئی تدبیر اور مڑنا ممکن نہیں مگر اللہ کی عطا کردہ حفاظت و عصمت کے ذریعے، اور اللہ کی اطاعت و بندگی بجا لانے کی کوئی سکت و قدرت نہیں مگر اللہ کی دی ہوئی قوت و توفیق کے ساتھ؛ اسی طرح مجھے جبریل علیہ السلام نے آگاہ فرمایا ہے۔“
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں صالح بن بیان الساحلی نامی راوی ضعیف ہے جس کی وجہ سے یہ روایت سنداً کمزور ہے۔