المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ لَا حول ولا قوة إِلَّا بالله باب: «لا حول ولا قوة إلا بالله» کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3426
وَقَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَامِرٍ الْأَسْلَمِيُّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى كُنُوزٍ مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ ؟ تُكْثِرُوا مِنْ قَوْلِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ " .ترجمہ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اکثر یہ ارشاد فرمایا کرتے تھے: ”کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک نہایت قیمتی خزانے کی راہ نہ دکھاؤں؟ تم بکثرت «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ» ”اللہ تعالیٰ کی توفیق و نصرت کے بغیر نہ (گناہوں سے) بچنے کی کوئی ہمت ہے اور نہ (نیکی کرنے کی) کوئی قوت ہے“ کہا کرو۔“
اس حدیث کو امام ابن ابی شیبہ نے المصنف (3426) میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں موجود راوی عبد اللہ بن عامر الاسلمی ضعیف ہے تاہم اس ذکر کی فضیلت صحیحین کی دیگر صحیح احادیث سے ثابت ہے۔