المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ لَا حول ولا قوة إِلَّا بالله باب: «لا حول ولا قوة إلا بالله» کی فضیلت کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا النَّضْرُ ، ثَنَا حَمَّادٌ ، ثَنَا مَعْبَدٌ ، أَخْبَرَنِي فُلَانٌ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : جَلَسَ أَبُو ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ مِثْلَ حَدِيثٍ قَبْلَهُ فِيهِ ، ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ ؟ " قُلْتُ : بَلَى ، يَا رَسُولَ اللهِ . قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُلْ : لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ " .سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ اللہ کے رسول ﷺ کی مجلس میں آ کر بیٹھ گئے، پھر راوی نے سابقہ حدیث کی مانند تمام واقعہ بیان کیا جس میں مروی ہے کہ پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک عظیم خزانے کی راہنمائی نہ کروں؟“ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول! (ضرور بتائیے)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم یہ پڑھا کرو: «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ» ”اللہ کی توفیق کے بغیر (برائی سے) بچنے کی کوئی تدبیر ہے اور نہ ہی (نیکی کرنے کی) کوئی قوت ہے۔“ “
امام اسحاق بن راہویہ نے اسے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔