❮
❯
حدیث نمبر: 3411
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ ، ثَنَا إِسْحَاقُ ، ثَنَا مُعَاوِيَةُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يُفَضَّلُ الذِّكْرُ الْخَفِيُّ الَّذِي لَا تَسْمَعُهُ الْحَفَظَةُ بِسَبْعِينَ ضِعْفًا ، وَيَقُولُ : " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ وَجَمَعَ اللهُ تَعَالَى الْخَلَائِقَ لِحِسَابِهِمْ ، وَجَاءَتِ الْحَفَظَةُ بِمَا حَفِظُوا أَوْ كَتَبُوا ، قَالَ اللهُ تَعَالَى لَهُمْ : انْظُرُوا هَلْ بَقِيَ لَهُ مِنْ شَيْءٍ ؟ فَيَقُولُونَ : رَبَّنَا مَا تَرَكْنَا شَيْئًا مِمَّا عَلِمْنَاهُ وَحَفِظْنَاهُ إِلَّا وَقَدْ أَحْصَيْنَاهُ وَكَتَبْنَاهُ . فَيَقُولُ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : إِنَّ لَكَ عِنْدِي خَبِيئًا لَا تَعْلَمُهُ ، وَأَنَا أَجْزِيكَ بِهِ ، وَهُوَ الذِّكْرُ الْخَفِيُّ .
ترجمہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”وہ پوشیدہ ذکر جسے حفاظت پر مامور فرشتے (کراماً کاتبین) نہیں سن پاتے، (عام ذکر پر) ستر گنا فضیلت و برتری رکھتا ہے، اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب قیامت کا دن ہوگا اور اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات کو ان کے حساب و کتاب کے لیے جمع فرمائے گا، اور وہ فرشتے اپنا محفوظ کردہ اور لکھا ہوا ریکارڈ لے کر حاضر ہوں گے، تو اللہ تعالیٰ ان سے دریافت فرمائے گا: دیکھو کیا اس بندے کا کوئی عمل باقی رہ گیا ہے؟ وہ عرض کریں گے: اے ہمارے رب! ہم نے اپنے علم اور یادداشت کے مطابق اس کا کوئی بھی عمل ایسا نہیں چھوڑا جسے ہم نے مکمل طور پر گن نہ لیا ہو اور لکھ نہ لیا ہو۔ تب اللہ تبارک و تعالیٰ (بندے سے مخاطب ہو کر) فرمائے گا: یقیناً میرے پاس تیری ایک ایسی پوشیدہ نیکی محفوظ ہے جس کا تمہیں (یا فرشتوں کو) علم نہیں اور میں ہی تمہیں اس کا بدلہ دوں گا، اور وہ «الذِّكْرُ الْخَفِيُّ» ”پوشیدہ ذکر“ ہے“۔“
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں معاویہ بن یحییٰ الصدفی نامی راوی کے تفرد اور ضعف کی وجہ سے یہ روایت سندی اعتبار سے ضعیف ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 3411
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :هذا الحديث ضعيف الإِسناد جدًا فيه علتان 1 - أبو هشام الرفاعي ضعيف ولكنه لم يتفرد به فقد توبع كما سترى في التخريج. 2 - معاوية بن يحيى ضعيف جدًا. »
«أخرجه المستدرك على الصحيحين برقم: 530، وأخرجه صحيح ابن خزيمة برقم: 137، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 16795، 16796، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 1229/2، 6071/1»