المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کا بیان۔
بَابُ الْحَثِّ عَلَى لزوم التسبيح باب: تسبیح کی پابندی کی ترغیب کا بیان۔
حدیث نمبر: 3410
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، ثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، ثَنَا حِزَامُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي حَكِيمٍ مَوْلَى الزُّبَيْرِ ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ صَبَاحٍ يُصْبِحُ الْعِبَادُ إِلَّا صَارِخٌ يَصْرُخُ : يَا أَيُّهَا الْخَلَائِقُ سَبِّحُوا الْمَلِكَ الْقُدُّوسَ " .ترجمہ
سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ایسی کوئی صبح نہیں ہوتی جس میں اللہ کے بندے بیدار ہوں مگر ایک منادی یہ بلند پکار لگاتا ہے: «يَا أَيُّهَا الْخَلَائِقُ سَبِّحُوا الْمَلِكَ الْقُدُّوسَ» ”اے تمام مخلوقات! تم اس حقیقی بادشاہ کی تسبیح و پاکیزگی بیان کرو جو نہایت مقدس اور ہر عیب سے مبرا ہے۔““
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں موجود راوی موسیٰ بن عبیدہ الربذی کو محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔