المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کا بیان۔
بَابُ الْحَثِّ عَلَى لزوم التسبيح باب: تسبیح کی پابندی کی ترغیب کا بیان۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُخَارِقٍ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : " إِذَا حَدَّثْتُكُمْ بِحَدِيثٍ أَنْبَأْتُكُمْ بِتَصْدِيقِ ذَلِكَ مِنْ كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ، قَالَ : مَا قَالَ عَبْدٌ : سُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلهِ ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ ، وَتَبَارَكَ اللهُ إِلَّا قَيَّضَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِنَّ مَلَكًا يُضْجِعُهُنَّ تَحْتَ جَنَاحَيْهِ ، وَيَصْعَدُ بِهِنَّ إِلَى السَّمَاءِ ، لَا يَمُرُّ عَلَى جَمْعٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِلَّا اسْتَغْفَرُوا لِقَائِلِهِنَّ ، حَتَّى يُحْيِّيَ بِهِنَّ وَجْهَ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ ، ثُمَّ تَلَا عَبْدُ اللهِ : إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ .
أَخْرَجَهُ الْحَاكِمُ .سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”جب بھی میں تمہیں کوئی حدیث سناؤں گا تو اللہ عزوجل کی کتاب سے اس کی تصدیق بھی تمہیں بتا دوں گا“، انہوں نے فرمایا: ”جو بندہ بھی «سُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلهِ ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ ، وَتَبَارَكَ اللهُ» ”اللہ پاک ہے، سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، اللہ سب سے بڑا ہے اور اللہ بہت برکت والا ہے“ کہتا ہے، تو اللہ عزوجل ان کلمات پر ایک فرشتہ مقرر فرما دیتا ہے جو انہیں اپنے پروں کے نیچے ڈھانپ لیتا ہے اور انہیں لے کر آسمان کی طرف بلند ہوتا ہے، وہ فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے بھی گزرتا ہے وہ اس ذکر کے کرنے والے کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں، یہاں تک کہ وہ فرشتہ ان کلمات کے ساتھ رحمن عزوجل کی بارگاہ میں حاضر ہو جاتا ہے“، پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ﴾ [سورة فاطر: 10]۔
اسے امام حاکم نے روایت کیا ہے۔