المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کا بیان۔
بَابُ الْحَثِّ عَلَى لزوم التسبيح باب: تسبیح کی پابندی کی ترغیب کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، ثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ قَالَ : أُتِيَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِغُرَابٍ وَافِرِ الْجَنَاحَيْنِ ، فَقَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَا صِيدَ صَيْدٌ ، وَلَا عُضِّدَتْ عَضَاةٌ ، وَلَا قُطِعَتْ وَشِيجَةٌ إِلَّا بِقِلَّةِ التَّسْبِيحِ " . ثُمَّ خَلَّى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ الْغُرَابِ .
هَذَا مُعْضَلٌ أَوْ مُرْسَلٌ ، وَالْحَكَمُ ضَعِيفٌ بِمَرَّةٍ .
( 133 ) حَدِيثُ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي فَضْلِ : سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ فِي ذَمِّ الْكِبْرِ فِي كِتَابِ الْأَدَبِ .امام زہری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ایک کوا لایا گیا جس کے پر بہت بڑے اور پھیلے ہوئے تھے، تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”کوئی شکار نہیں پکڑا جاتا، نہ ہی کوئی خاردار درخت کاٹا جاتا ہے اور نہ ہی کوئی پیوست شاخ یا جڑ کاٹی جاتی ہے مگر تسبیح (اللہ کی پاکی بیان کرنے) میں کمی اور غفلت کی وجہ سے۔“ پھر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس کوے کو آزاد کر دیا۔
یہ روایت معضل یا مرسل ہے، اور اس کا راوی حکم بن عبد اللہ سخت ضعیف ہے۔
(133) کتاب الادب میں کبر (تکبر) کی مذمت کے باب میں «سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ» ”اللہ اپنی تعریف کے ساتھ پاک ہے“ کی فضیلت کے بارے میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث موجود ہے۔