المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کا بیان۔
بَابُ الذِّكْرِ فِي الصباح والمساء باب: صبح و شام کے ذکر کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، ثَنَا حُصَيْنٌ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَبْرَةَ ، قَالَ : كَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا إِذَا أَصْبَحَ قَالَ : " اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنْ أَعْظَمِ عِبَادِكَ نَصِيبًا فِي كُلِّ خَيْرٍ تَقْسِمُهُ فِي الْغَدَاةِ مِنْ نُورٍ تَهْدِي بِهِ ، وَرَحْمَةٍ تَنْشُرُهَا ، وَرِزْقٍ تَبْسُطُهُ ، وَضُرٍّ تَكْشِفُهُ ، وَبَلَاءٍ تَدْفَعُهُ ، وَفِتْنَةٍ تَصْرِفُهَا ، وَسُوءٍ تَدْفَعُهُ " .عبد اللہ بن سبرہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب صبح کرتے تو یہ دعا مانگتے: «اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنْ أَعْظَمِ عِبَادِكَ نَصِيبًا فِي كُلِّ خَيْرٍ تَقْسِمُهُ فِي الْغَدَاةِ مِنْ نُورٍ تَهْدِي بِهِ، وَرَحْمَةٍ تَنْشُرُهَا، وَرِزْقٍ تَبْسُطُهُ، وَضُرٍّ تَكْشِفُهُ، وَبَلَاءٍ تَدْفَعُهُ، وَفِتْنَةٍ تَصْرِفُهَا، وَسُوءٍ تَدْفَعُهُ» ”اے اللہ! مجھے اپنے ان بندوں میں شامل فرما جن کا اس ہر خیر و بھلائی میں سب سے وافر حصہ ہو جسے تو صبح کے وقت تقسیم فرماتا ہے؛ یعنی وہ نور جس کے ذریعے تو ہدایت دیتا ہے، وہ رحمت جسے تو عام کرتا ہے، وہ رزق جسے تو کشادہ فرماتا ہے، وہ تکلیف جسے تو دور کرتا ہے، وہ مصیبت جسے تو ٹال دیتا ہے، وہ فتنہ جسے تو پھیر دیتا ہے اور وہ برائی جسے تو دفع فرماتا ہے۔“
مصنف ابن ابی شیبہ (رقم الحدیث: 3404)۔