المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کا بیان۔
بَابُ الذِّكْرِ فِي الصباح والمساء باب: صبح و شام کے ذکر کا بیان۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ قَالَ : سَمِعْتُ مَنْصُورً ، يُحَدِّثُ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ النَّخَعِ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَلْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِذَا قَالَ الْعَبْدُ حِينَ يُصْبِحُ : اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لَا شَرِيكَ لَكَ ، وَأَصْبَحْتُ وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلهِ ، لَا شَرِيكَ لَهُ ، إِذَا قَالَهَا الْعَبْدُ إِذَا أَصْبَحَ ، وَإِذَا أَمْسَى كَفَّرْتُ عَنْهُ مَا أَحْدَثَ بَيْنَهُمَا ، أَوْ قَالَ : أَصَابَ بَيْنَهُمَا .سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”جب اللہ کا کوئی بندہ صبح کے وقت یہ دعا پڑھے: «اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لَا شَرِيكَ لَكَ، وَأَصْبَحْتُ وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلهِ، لَا شَرِيكَ لَهُ» ”اے اللہ! تو ہی میرا رب ہے، تیرا کوئی شریک نہیں، میں نے صبح کی اور تمام کائنات و سلطنت نے بھی اللہ ہی کے لیے صبح کی جس کا کوئی شریک نہیں“، تو جب بھی کوئی بندہ یہ کلمات صبح اور شام کے وقت ادا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ان تمام گناہوں کا کفارہ فرما دیتا ہے جو اس نے ان دونوں اوقات کے درمیانی وقفے میں کیے ہوں، یا راوی نے شک کے ساتھ یہ الفاظ کہے کہ: جو گناہ اس نے ان کے درمیان کیے۔“
اس روایت کو امام مسدد نے اپنی مسند میں نقل کیا ہے، اس کی سند میں ایک راوی (رجل من النخع) غیر معروف یا مبہم ہے، تاہم مفہوم کے اعتبار سے یہ دیگر مستند اذکار سے مطابقت رکھتی ہے۔