المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کا بیان۔
بَابُ الذِّكْرِ فِي الصباح والمساء باب: صبح و شام کے ذکر کا بیان۔
حدیث نمبر: 3402
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، ثَنَا يُوسُفُ بْنُ عَطِيَّةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو بِهَذِهِ الدَّعَوَاتِ إِذَا أَصْبَحَ وَإِذَا أَمْسَى : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَجْأَةِ الْخَيْرِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فَجْأَةِ الشَّرِّ ، فَإِنَّ الْعَبْدَ لَا يَدْرِي مَا يَفْجَؤُهُ إِذَا أَصْبَحَ وَإِذَا أَمْسَى .ترجمہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ صبح اور شام کے وقت ان کلمات کے ساتھ دعا فرمایا کرتے تھے: ”«اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَجْأَةِ الْخَيْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فَجْأَةِ الشَّرِّ» ”اے اللہ! میں تجھ سے اچانک حاصل ہونے والی خیر و بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور اچانک پہنچنے والے شر و مصیبت سے تیری پناہ مانگتا ہوں“، کیونکہ بندہ نہیں جانتا کہ جب وہ صبح یا شام کرتا ہے تو اسے اچانک کیا صورتِ حال پیش آ جائے۔“
اس روایت کی سند میں یوسف بن عطیہ بصری ضعیف راوی ہے، جس کی وجہ سے یہ حدیث سندا ضعیف ہے۔