المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کا بیان۔
بَابُ الذِّكْرِ فِي الصباح والمساء باب: صبح و شام کے ذکر کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ زَنْجُوَيْهِ ثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، حَدَّثَنِي ضَمْرَةُ بْنُ حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَهُ دُعَاءً ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَتَعَاهَدَ بِهِ أَهْلَهُ كُلَّ يَوْمٍ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُلْ حِينَ تُصْبِحُ : لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ وَمِنْكَ وَلَكَ وَإِلَيْكَ ، مَا قُلْتُ مِنْ قَوْلٍ ، وَعَمِلْتُ مِنْ عَمَلٍ ، أَوْ نَذَرْتُ مِنْ نَذْرٍ ، أَوْ حَلَفْتُ مِنْ حَلِفٍ فَمَشِيئَتُكَ بَيْنَ يَدَيْ ذَلِكَ كُلِّهِ ، مَا شِئْتَ كَانَ ، وَمَا لَمْ تَشَأْ لَمْ يَكُنْ ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِكَ ، إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، اللَّهُمَّ مَا صَلَّيْتُ مِنْ صَلَاةٍ فَعَلَى مَنْ صَلَّيْتَ ، وَمَا لَعَنْتُ مِنْ لَعْنٍ فَعَلَى مَنْ لَعَنْتَ ، أَنْتَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ " .سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں ایک دعا سکھائی اور انہیں حکم دیا کہ وہ اپنے گھر والوں کو روزانہ اس کی تلقین کرتے رہا کریں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم صبح کرو تو یہ کہو: «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ وَمِنْكَ وَلَكَ وَإِلَيْكَ ، مَا قُلْتُ مِنْ قَوْلٍ ، وَعَمِلْتُ مِنْ عَمَلٍ ، أَوْ نَذَرْتُ مِنْ نَذْرٍ ، أَوْ حَلَفْتُ مِنْ حَلِفٍ فَمَشِيئَتُكَ بَيْنَ يَدَيْ ذَلِكَ كُلِّهِ ، مَا شِئْتَ كَانَ ، وَمَا لَمْ تَشَأْ لَمْ يَكُنْ ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِكَ ، إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، اللَّهُمَّ مَا صَلَّيْتُ مِنْ صَلَاةٍ فَعَلَى مَنْ صَلَّيْتَ ، وَمَا لَعَنْتُ مِنْ لَعْنٍ فَعَلَى مَنْ لَعَنْتَ ، أَنْتَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ» ”حاضر ہوں اے اللہ! میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں، میں تیری اطاعت کے لیے بار بار حاضر اور سرگرمِ عمل ہوں، تمام تر بھلائی تیرے ہی دستِ قدرت میں ہے، اور ہر خیر تیری ہی جانب سے ہے، تیرے ہی لیے ہے اور تیری ہی طرف لوٹنے والی ہے؛ میں نے جو بھی قول کہا، یا کوئی عمل کیا، یا کوئی نذر مانی، یا کوئی قسم کھائی، تو ان سب کے رونما ہونے سے پہلے تیری مشیت کارفرما ہے؛ جو تو چاہے وہی ہوتا ہے اور جو تو نہ چاہے وہ کبھی نہیں ہو سکتا، گناہوں سے بچنے کی ہمت اور نیکی کرنے کی طاقت تیرے بغیر ممکن نہیں، بے شک تو ہر چیز پر کامل قدرت رکھنے والا ہے۔ اے اللہ! میں نے جس کسی کے حق میں (رحمت کی) دعا کی ہو تو وہ اسی کے لیے ہو جس پر تو نے رحمت فرمائی ہو، اور جس پر میں نے لعنت کی ہو وہ اسی پر ہو جس پر تو نے لعنت فرمائی ہو۔ تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا کارساز ہے، ﴿تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ﴾ [سورة يوسف: 101] مجھے اسلام کی حالت میں موت عطا فرما اور مجھے نیکو کاروں کے ساتھ ملا دے۔““
اس حدیث کی تخریج امام ابویعلیٰ نے اپنی مسند (7188) میں کی ہے، اس کی سند میں ابوبکر بن ابی مریم ضعیف راوی ہے، تاہم دعا کے بعض کلمات دیگر صحیح احادیث سے ثابت ہیں۔