❮
❯
حدیث نمبر: 3400
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، ثَنَا ( مُعَانٌ ) أَبُو عَبْدِ اللهِ ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ ، عَنِ الْحَسَنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا مَعَ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَأُتِيَ ، فَقِيلَ لَهُ : أَدْرِكْ دَارَكَ ، فَقَدِ احْتَرَقَتْ . فَقَالَ : مَا احْتَرَقَتْ دَارِي ؟ فَذَهَبَ ، ثُمَّ جَاءَ ، ( فَقَالَ لَهُ ) : أَدْرِكْ دَارَكَ فَقَدِ احْتَرَقَتْ . فَقَالَ : لَا وَاللهِ مَا احْتَرَقَتْ دَارِي ، فَقِيلَ لَهُ : يُقَالُ لَكَ : قَدِ احْتَرَقَتْ دَارُكَ ، فَتَحْلِفُ بِاللهِ مَا احْتَرَقَتْ ؟ فَقَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : ( إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ : إِنَّ رَبِّيَ اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ ، وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ، مَا شَاءَ اللهُ كَانَ ، وَمَا لَمْ يَشَأْ لَمْ يَكُنْ ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ ، أَشْهَدُ أَنَّ اللهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، وَأَنَّ اللهَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا ، أَعُوذُ بِاللهِ الَّذِي يُمْسِكُ السَّمَاءَ أَنْ تَقَعَ عَلَى الْأَرْضِ إِلَّا بِإِذْنِهِ مِنْ شَرِّ كُلِّ دَابَّةٍ رَبِّي آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا ، إِنَّ رَبِّي عَلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ لَمْ يَرَ يَوْمَئِذٍ فِي نَفْسِهِ وَلَا أَهْلِهِ ، وَلَا مَالِهِ شَيْئًا يَكْرَهُهُ ، وَقَدْ قُلْتُهَا الْيَوْمَ ) .
قُلْتُ : رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الدُّعَاءِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ ، وَسَمَّى الرَّجُلَ الصَّحَابِيَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَلَا يَجُوزُ أَنْ يُفَسَّرَ بِهِ الْمُبْهَمُ هُنَا ; فَإِنَّ الْحَسَنَ لَمْ يُجَالِسْ أَبَا الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .
ترجمہ

امام حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے آکر انہیں خبر دی: ”اپنے گھر کی خبر لیجیے، وہ آگ کی زد میں آکر جل گیا ہے۔“ صحابی نے فرمایا: ”میرا گھر نہیں جلا۔“ وہ شخص دوبارہ آیا اور کہنے لگا: ”اپنے گھر کو سنبھالیے کیونکہ وہ تو جل گیا ہے!“ انہوں نے پھر فرمایا: ”اللہ کی قسم! میرا گھر نہیں جلا۔“ اس پر لوگوں نے حیرت سے پوچھا: ”آپ کو اطلاع دی جا رہی ہے کہ آپ کا گھر جل چکا ہے اور آپ قسم اٹھا کر اس کی تردید کر رہے ہیں؟“ انہوں نے فرمایا: ”درحقیقت میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص صبح کے وقت یہ کلمات کہہ لے: «إِنَّ رَبِّيَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ، وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، مَا شَاءَ اللَّهُ كَانَ، وَمَا لَمْ يَشَأْ لَمْ يَكُنْ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ، أَشْهَدُ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، وَأَنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا، أَعُوذُ بِاللَّهِ الَّذِي يُمْسِكُ السَّمَاءَ أَنْ تَقَعَ عَلَى الْأَرْضِ إِلَّا بِإِذْنِهِ مِنْ شَرِّ كُلِّ دَابَّةٍ رَبِّي آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا، إِنَّ رَبِّي عَلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ» ”بے شک میرا رب اللہ ہے، اس کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور وہی عرشِ عظیم کا مالک ہے؛ جو اللہ نے چاہا وہ ہوا اور جو اس نے نہیں چاہا وہ نہیں ہو سکتا، گناہوں سے بچنے کی ہمت اور نیکی کی طاقت اللہ بلند و برتر کی توفیق ہی سے ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے اور اللہ نے ہر چیز کا اپنے علم سے احاطہ کر رکھا ہے، میں اس اللہ کی پناہ مانگتا ہوں جس نے آسمان کو زمین پر گرنے سے تھام رکھا ہے مگر اس کے اپنے اذن سے، ہر اس جاندار کے شر سے جس کی پیشانی میرا رب تھامے ہوئے ہے، بے شک میرا رب سیدھے راستے پر ہے“، تو اس دن وہ اپنی ذات، اپنے اہل خانہ اور اپنے مال میں کوئی ناپسندیدہ چیز نہیں دیکھے گا، اور میں نے آج یہ کلمات پڑھ لیے تھے۔“
میں کہتا ہوں: اسے امام طبرانی نے کتاب ’الدعا‘ میں ایک اور سند سے روایت کیا ہے اور وہاں اس صحابی کا نام سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ صراحت سے ذکر کیا ہے، مگر یہاں موجود غیر متعین (مبہم) راوی کی مراد سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ لینا درست نہیں ہے؛ کیونکہ امام حسن بصری رحمہ اللہ کی سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے مجالست (ملاقات) ثابت نہیں ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 3400
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :هذا إسناد ضعيف لعلتين:، 1 - جهالة معان.، 2 - فيه راو لم بسم.، وقال البوصيري في الإِتحاف المسندة والمختصرة (3/ 8/ب): فيه راو لم يسم. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»