المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کا بیان۔
بَابُ الذِّكْرِ فِي الصباح والمساء باب: صبح و شام کے ذکر کا بیان۔
قَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ ، ثَنَا فَائِدٌ أَبُو الْوَرْقَاءِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ( أَصْبَحْنَا ) قَالَ : أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلهِ ، وَالْكِبْرِيَاءُ ، وَالْعَظَمَةُ ، وَالْخَلْقُ ، وَاللَّيْلُ وَالنَّهَارُ ، وَمَا سَكَنَ فِيهِمَا لِلهِ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، اللَّهُمَّ اجْعَلْ أَوَّلَ هَذَا النَّهَارِ ( صَلَاحًا ) ، وَأَوْسَطَهُ فَلَاحًا ، وَآخِرَهُ نَجَاحًا ، وَأَسْأَلُكَ خَيْرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ .سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ جب صبح ہوتی تو آپ ﷺ یہ کلمات ارشاد فرماتے: «أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلّٰهِ، وَالْكِبْرِيَاءُ، وَالْعَظَمَةُ، وَالْخَلْقُ، وَاللَّيْلُ وَالنَّهَارُ، وَمَا سَكَنَ فِيهِمَا لِلّٰهِ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، اللَّهُمَّ اجْعَلْ أَوَّلَ هَذَا النَّهَارِ صَلَاحًا، وَأَوْسَطَهُ فَلَاحًا، وَآخِرَهُ نَجَاحًا، وَأَسْأَلُكَ خَيْرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ» ”ہم نے صبح کی اور اللہ کی سلطنت میں صبح ہوئی، اور تمام بادشاہت، کبریائی، عظمت، ساری مخلوق، رات اور دن اور جو کچھ ان میں بستا ہے وہ سب اکیلے اللہ ہی کے لیے ہے جس کا کوئی شریک نہیں، اے اللہ! اس دن کے آغاز کو خیر و درستی، اس کے درمیانی حصے کو فلاح و بہبود اور اس کے آخری حصے کو کامیابی و کامرانی کا ذریعہ بنا دے، اور میں تجھ سے دنیا و آخرت کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں۔“
اس حدیث کی سند میں فائد بن عبد الرحمن (ابو الورقاء) موجود ہے جو کہ ائمہ حدیث کے نزدیک ضعیف اور متروک راوی ہے، اس لیے یہ روایت سنداً ضعیف ہے۔