المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الذِّكْرِ باب: ذکرِ الٰہی کی فضیلت و منقبت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3394
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدِ اللهِ قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ( يَقُولُ ) : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمَجَالِسُ ثَلَاثَةٌ : غَانِمٌ ، وَسَالِمٌ ، ( وَشَاجِبٌ ) . ( فَالْغَانِمُ ) الَّذِي يُكْثِرُ ذِكْرَ اللهِ تَعَالَى فِي مَجْلِسِهِ ، وَالسَّالِمُ الَّذِي يَسْكُتُ لَا عَلَيْهِ وَلَا لَهُ ، ( وَالشَّاجِبُ ) الَّذِي يَكُونُ كَلَامُهُ وَعَمَلُهُ فِي مَعْصِيَةِ اللهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى " .ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجلسیں تین طرح کی ہوتی ہیں: نفع پانے والی، سلامت رہنے والی اور ہلاک ہونے والی۔ چنانچہ نفع پانے والی وہ مجلس ہے جس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کثرت سے کیا جائے، سلامت رہنے والی وہ ہے جس میں آدمی خاموش رہے تو نہ اس پر کوئی وبال ہو اور نہ ہی اس کے لیے کوئی اجر، اور ہلاک ہونے والی وہ مجلس ہے جس میں انسان کی گفتگو اور اس کا عمل اللہ تبارک و تعالیٰ کی نافرمانی میں ہو۔“
اس حدیث کو امام مسدد نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، تاہم اس کی سند میں یحییٰ بن عبید اللہ نامی راوی ضعیف ہے۔