المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الذِّكْرِ باب: ذکرِ الٰہی کی فضیلت و منقبت کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ : وَسَمِعْتُ حَرِيزَ بْنَ عُثْمَانَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي بَحْرِيَّةَ ، عَنْ مُعَاذٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : مَا عَمِلَ آدَمِيٌّ أَنْجَى لَهُ مِنْ عَذَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ ذِكْرِ اللهِ تَعَالَى . قَالُوا : وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ؟ قَالَ : لَا ، وَلَوْ ضَرَبَ بِسَيْفِهِ ، قَالَ اللهُ : وَلَذِكْرُ اللهِ أَكْبَرُ .
قُلْتُ : رَوَى أَحْمَدُ مِنْ هَذِهِ الْقِطْعَةِ الْأَخِيرَةِ بِإِسْنَادٍ غَيْرِ هَذَا مُنْقَطِعٍ .
وَأَصْلُهُ فِي التِّرْمِذِيِّ وَغَيْرِهِ .سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”کسی انسان نے اللہ تعالیٰ کے ذکر سے بڑھ کر کوئی ایسا عمل نہیں کیا جو اسے اللہ عزوجل کے عذاب سے زیادہ نجات دلانے والا ہو۔“ لوگوں نے دریافت کیا: ”کیا اللہ عزوجل کی راہ میں جہاد کرنا بھی (ذکر کے برابر) نہیں؟“ انہوں نے جواب دیا: ”نہیں۔ (جہاد بھی اس کی فضیلت کو نہیں پہنچ سکتا) اگرچہ وہ غازی (میدانِ جنگ میں) اپنی تلوار سے دشمن پر وار ہی کیوں نہ کر رہا ہو، کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے خود فرمایا ہے: ﴿وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ﴾ [سورة العنكبوت: 45]۔“
میں کہتا ہوں کہ امام احمد نے اس حدیث کا آخری ٹکڑا اس کے علاوہ ایک اور سند سے روایت کیا ہے جو کہ منقطع ہے، اور اس حدیث کی اصل امام ترمذی اور دیگر ائمہ کے ہاں موجود ہے۔