المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الذِّكْرِ باب: ذکرِ الٰہی کی فضیلت و منقبت کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُوسَى الْجُهَنِيِّ ، ثَنَا مِخْرَاقٌ قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ : " الْمَجَالِسُ ثَلَاثَةٌ : فَمِنْهُمُ الْغَانِمُ ، وَمِنْهُمُ السَّالِمُ ، وَمِنْهُمُ الشَّاجِبُ ، فَالْغَانِمُ عَبْدٌ ذَكَرَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ ( فَذَكَرَهُ ) اللهُ تَعَالَى ، وَالسَّالِمُ عَبْدٌ لَمْ ( يُمْلِ ) عَلَى كَاتِبِهِ خَيْرًا وَلَا شَرًّا ، وَالشَّاجِبُ الَّذِي أَخَذَ فِي الْبَاطِلِ فَهُوَ يَسْتَجِرُّ عَلَى نَفْسِهِ " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”مجالس تین طرح کی ہوتی ہیں: ان میں سے ایک نفع پانے والی ہے، ایک سلامت رہنے والی ہے اور ایک ہلاک ہونے والی ہے؛ پس نفع پانے والا وہ بندہ ہے جس نے اللہ عزوجل کا ذکر کیا تو اللہ تعالیٰ نے اسے (اپنی رحمت کے ساتھ) یاد فرمایا، سلامت رہنے والا وہ بندہ ہے جس نے اپنے (اعمال) لکھنے والے فرشتے پر نہ تو کسی خیر کا املا کروایا اور نہ ہی کسی شر کا، جبکہ ہلاک ہونے والا وہ شخص ہے جس نے باطل اور لایعنی باتوں میں حصہ لیا، پس وہ اپنے نفس پر وبال اور بربادی کھینچ لایا۔“
اس روایت کی سند حسن درجے کی ہے اور اسے امام بیہقی نے شعب الایمان میں نقل کیا ہے۔